اپنی ہی صدا سنوں کہا تک ۔۔۔ رانا وسیم

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

ہر بار ہوا نہ ہوگی در پر
ہر بار مگر اٹھوں کہاں تک

دم گھٹتا ہے گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لئے رکوں کہاں تک

پھر آ کے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک

ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام ترا لکھوں کہاں تک

تنہائی کا ایک ایک لمحہ
ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک

گر لمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
میں تجھ سے جدا رہوں کہاں تک

سکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک

منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جلوں کہاں تک

آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پھول اس کے لئے چنوں کہاں تک

پروین شاکر ۔۔۔ پیشکش رانا وسیم

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے