خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

خاموشی رات کی دیکتھا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں
مد ہوش اکثر ہوجاتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

ہوش والوں میں جاتا ہوں تو الجھتی ہے طبعیت
سو بے ہوش پڑا رہتا ہوں اور تجھے سوچتا ہوں

تو من میں میرے آ جا میں تجھ میں سما جاؤں
ادھورے خواب سمجھتا ہوں اورتجھے سوچتا ہوں

جمانے لگتی ہیں جب لہو میرا فر خت کی ہوائیں
تو شال قر بت کی اوڑھتا اور تجھے سوچتا ہوں

وصی شاہ

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے