روس میں چوری کی انوکھی واردات پولیس بھی حیران

روس کے علاقے آرکٹک میں چوری کی انوکھی واردات ہوئی جس میں چور سونا چاندی یا رقم نہی بلکہ 56 ٹن وزنی پل لے اڑے۔ روسی پولیس کے مطابق یہ واردات فِن لینڈ کی سرحد کے قریب دریائے اومبا پر قائم ریلوے پُل پر ہوئی۔ یہ پل کافی عرصے سے متروک کیا جا چکا تھا۔پُل کے قریب واقع آبادی یہی سمجھی کہ شاید پُل کا مرکزی حصہ ٹوٹ کر دریا میں گر گیا ہے لیکن جب ملبہ اور پل کے آثار نہ ملے تب وہ یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ اصل میں یہ پُل چوری کیا جا چکا ہے۔آثار نہ ملنے پر شہریوں نے قصبے کے قریب واقع پولیس اسٹیشن کو اس واردات کی اطلاع دی۔شروع میں پولیس نے بھی اس خبر کو رد کر دیا تھا تاہم ابتدائی تحقیقات سے یہ چوری ثابت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق مجرموں نے پُل کا لوہا کباڑ میں بیچنے کیلئے چوری کیا ہوگا۔روسی پولیس تاحال چوروں کا سراغ لگانے میں کامیاب نہی ہو سکی جبکہ ابھی تک ان کے طریقہ واردات سے بھی لاعلم ہیں۔روسی پولیس کے مطابق پل چوری کا یہ پہلا واقعہ نہی اس سے قبل2008ء میں اسی طرح کی ایک اور واردات میں چور اس سے بھی بڑا پُل جس کا وزن 200 ٹن تھا ایک رات ہی میں چوری کر کے فرار ہو گئے تھے۔