آپ بھی جانئیے؟؟؟

بعض لوگ یہ سوچ کر کھانا نہیں کھاتے کہ ان کے جسم میں ’کیڑے‘ ہیں، کھانا ان کو تقویت پہنچاتا ہے۔ ان کو یہ کیڑے اپنے جسم پر ہر جگہ نظر آتے ہیں مگر ان کے ارگرد لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ وہ روزمرہ کے کاموں کو اس انداز میں سرانجام نہیں دے سکتے جس طرح نارمل لوگ کرتے ہیں۔اگر آپ کے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں تو جان لیں کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے جسے شیزوفرینیا کہا جاتا ہے۔ اس میں مبتلا فرد کا حقیقت سے تعلق کٹ جاتا ہے، ان کو لگتا ہے جو کچھ وہ دیکھتے اور سونگھتے ہیں وہ سچ ہے۔
ماہر نفسیات ڈاکٹرحمیرا سعید کا کہنا ہے کہ شیزوفرینیا میں مبتلا افراد انتہائی شکی مزاج اور حساس بھی ہوسکتے ہیں اور اپنی صورتحال کے باعث وہ لوگوں سے دوری اور تنہائی پسند کرتے ہیں۔ ان کے اردگرد رہنے والوں میں کسی کو اندازہ نہیں ہوتا ہے ایسے افراد کس قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ یہ نفسیاتی عارضہ کافی زیادہ پھیل چکا ہے۔
آج سے دو سال قبل 2016 میں شکیلہ اختر نے ایک ریسرچ کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں تقریبا ہر 6 افراد میں سے ایک فرد شیزوفرینیا میں مبتلا ہے جس میں ہر نسل کے مرد و خواتین شامل ہیں۔انسان کی دماغی حالت کا اندازہ کسی بھی میڈٰیکل ٹیسٹ یا خون کے ٹیسٹ سے ممکن نہیں مگر کچھ علامات ایسی ہیں جن کو دیکھ کر ماہرین نفسیات دماغی حالات کی تشخیص کرلیتے ہیں۔ شیزوفرینیا کی علامات دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک مثبت اور دوسری منفی۔ یہاں مثبت سے مراد ’علامات کی موجودگی‘ ہے جبکہ منفی سے مراد دماغی صلاحیتوں کا متاثر ہونا اور غیر حقیقی خیالات شامل ہیں۔اگر آپ کا کوئی عزیز اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہے تو ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کریں۔ ان کی حالت سے انہیں شرمندہ کرنے سے گریز کریں۔ ماہر نفسیات مدرہ اکرام کا کہنا ہے اگر کوئی کینسر میں مبتلا ہو تو ہم اسے کینسر کے حوالے سے نہیں بلاتے اور نہ ہی بار بار یاد دلاتے ہیں بالکل اسی طرح نفسیاتی عوارض میں مبتلا افراد کے ساتھ بھی ہمارا رویہ اچھا ہونا چاہیے۔شیزوفرینیا کے علاج کیلئے دو معروف طریقوں میں تھراپی اور ادویات شامل ہیں۔ مختلف مریضوں کو مختلف ڈوز دی جاتی ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ شیزوفرینیا کی ادویات عام طور پر 4 سے 6 ہفتے بعد اثر دکھانا شروع کردیتی ہیں۔ ان ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں مگر انہیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ تھراپی کے ذریعے بھی علاج ممکن ہےجس کے تحت مریض کو ابتدا میں چھوٹے موٹے اور آہستہ آہستہ بڑے اہداف دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ کپڑے تبدیل کرنا، نہانا، دانت برش کرنا اور پھر نوکری ڈھونڈنے پر آمادہ کرنا یا اپنا کام شروع کرنے کا ہدف دینا شامل ہے۔کوئی بھی ماہر نفسیات شیزوفرینیا کی تشخیص اور علاج میں مدد کرسکتا ہے۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ماہرین نفسیات موجود ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بھی نفسیات کے وارڈ قائم ہیں جہاں ماہرین نفسیات تعینات ہیں اور وہ اپنے پرائیویٹ کلینکس بھی چلاتے ہیں۔