fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

ایک نوجوان کے نام۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

ترے صوفے ہیں افرنگی(انگریزوں کے)، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے نوجواں کی تن آسانی
امارت(سرداری) کیا، شکوہ خسروی(بادشاہی مسند) بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زور حیدری تجھ میں، نہ استغناۓ(بےنیازی) سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں
کہ پایا میں نے استنعا میں معراج مسلمانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نو امید، نو میدی زوال علم و عرفان ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں
نہیں ہے تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے
Close Menu