fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

ہر ظلم ترا یاد ہے، بھولا تو نہیں ہوں

ہر ظلم ترا یاد ہے، بھولا تو نہیں ہوں
اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم، چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

چپ چاپ سہی مصلحتاَ وقت کےہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں

مضطرؔ کیوں مجھے دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی، اُن کا تماشا تو نہیں ہوں

(آفتاب مضطر)

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے
Close Menu