3D پرنٹر کے ذریعے انسانی اعضاء ۔ ایک حیرت انگیز ریسرچ

تل ابیب کی یونیورسٹی میں کامیاب ریسرچ کی گئی ۔ تفصیلات کےمطابق انسانی ٹشو استعمال کرکے اپنی مرضی کے انسانی اعضاء بنائے جاسکیں گے۔ ابتدائی تجربات میں انسانی دل بنایا گیا۔ اس کامیابی کے بعد کسی بھی ٹرانسپلانٹ کے مریض کو عطیا کیے گئے اعضاء کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ مریض کے جسم سے ٹشو لیکر ان سے 3D پرنٹر کی مدد سے اعضا بنائے جا سکیں گے۔

محققین نے مریض سے لیا گیا فیٹ سیل سے کولیجن میٹر بنایا گیا، اور جینیٹک انجینئرنگ میں فیٹ سیل سے سٹم سیل بنائے گئے ۔ اور سٹم سیل سے دل کے مسل اور دل کی شریانوں کے سیل بنائے گئے، اور کولیجن میٹر سے ایک قسم کی انک بنائی گئی۔

پھر سارے مرکب کو 3D پرنٹر میں ڈالا گیا اور مریض کے دل کے ایم آر آئی اور سیٹی سکین کی امیجنگ کے مطابق دل کو بنایا گیا۔ محققین کے مطابق اس طرح کا دل مریض کے جسم کے مطابق بنتا ہے اور اس کے سیل جوان دل کے ہوتے ہیں ۔

بہت جلد اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جسم کے سارے اعضاء بھی بنائے جاسکیں گے۔