صحافت اور ضمیر کی آواز

صحافت ایک انتہائی اہم منصب اور مقدس پیشہ ہے۔ جس میں چھوٹے اضلاع کی حد تک تنخواہ صفر اور ورک 24 گھنٹے کا ہے۔ ہر خبر پر نظر رکھنے کے لیے ،جب تک صحافی 24 گھنٹے ایکٹو نہیں رہے گا رزلٹ ناممکن ہے۔ ادارے تنخواہ نہیں دیتے اور چھوٹے شہروں میں اشتہارات کا ٹرینڈ نہیں ہے۔ صحافیوں کو گھر چلانے کے لیے الگ اپنا کوئی کام کاج کرنا پڑتا ہے۔

صحافت میں آپ نے یا تو سب اوکے کی رپورٹ لکھنی ہے ۔ اگر آپ افسران اور سیاستدانوں سے ملاقات اور ان کے اچھے اچھے بیان لکھنے ہیں، عوام اور ان کے مسائل پر آنکھیں بند کر کے سوئے رہنا ہے، تو آپ کسی مسئلہ کا شکار نہیں ہوں گے۔ بلکہ آپ اپنے ہی نہیں ، اپنے تعلق والوں کے کام بھی لے سکتے ہیں۔انتظامیہ، سیاستدانوں سے بھی تعلق اور معاشرہ بھی راضی ہو گا۔

لیکن آپ اس کے بر عکس اگر عوام کے مسائل لکھیں گے، ظلم و زیادتی کی خبریں نشر کریں گے ، انتظامیہ اور سیاستدانوں سے ملاقاتیں نہیں کریں گے ، یہ سوچ کر کہ اگر ان سے تعلقات بنا لیے، تو ان کے خلاف آئی حق سچ کی خبروں کو کیسے لکھ سکیں گے۔ تو آپ سے خلق خدا کی آواز بلند کرنے پر ،اور حق سچ لکھنے پر اللہ راضی ہو گا، آپ کا ضمیر بھی مطمعن ہو گا یا جس کا مسئلہ اجاگر ہوا، وہ راضی ہو گا۔صرف دعائیں ملیں گے۔ لیکن وہ خبریں آپ کے بچوں کا پیٹ نہیں بھریں گی۔

لیکن حق سچ لکھنے کی پاداش میں آپ کے مخالفین بڑھیں گے ، جن کے خلاف لکھیں گے ، ظاہری بات ہے وہ طاقت ور طبقہ ہو گا ، ان کی طرف سے کردار کشی ، گالیاں ، ناجائز جھوٹے کیس کے علاوہ جان سے ہاتھ گنوانا ہوں گے۔

حق کے لیے جاں دینے کی جو رسم چلی ہے
اس رسم کا بانی ہی حسینؑ ابنِ علیؑ ہے
(سعید اقبال سعدی)

صحافی معاشرے کی آنکھ ،کان اور ناک بن کر معاشرے کی رہنمائی کرتے ہوئے مثبت اور منفی پہلو بتاتا ہے، اپنے مستقبل کی فکر کی بجائے معاشرے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے ، جبکہ اس مہنگائی کے دور میں ہر شہری اپنے گھر کی فکر میں ہے۔ لیکن صحافی وہ مجاہد وطن ہے جو ان تمام مسائل کا جرت مندی سے سامنا کرتے ہوئے ، معاشرے میں سر پر کفن باندھ کر شہادت کے لیے تیار ، کلمہ حق بلند کرتے ہوئے باطل کے سامنے سینہ سپر رہتا ہے۔ ان تمام مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود معاشرہ صحافی کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ہے ۔ افسوس صد افسوس۔

ستمگرو! نہ ستم کرتے کرتے تھک جانا
ہمارے صبر کی حد جنگِ کربلا تک ہے
(تحریر مرزا قاسم بیگ)

صحافت کربلا کا میدان ہے ، اس کربلا کے میدان میں وقت کے یزیدوں کے سامنے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے باطل کے سامنے سینہ سپر ہو کر ، حق سچ کا علم بلند کرتے ہوئے ،یزیدوں کی طرف سے تمام تنگی و تکلیف کو سہتے ہوئے ، جام شہادت نوش کرنے کا نام صحافت ہے۔
یزید بیت میں تھیں رعنائیاں بہت
لیکن ہم نے چنا ہے سفر کربلائے حق
میں سمجھتا ہوں، یہ ہر بندہ کے بس کی بات نہیں ہے، عمل اور قول میں بہت فرق ہوتا ہے۔ تنقید کے نشتر چلانے والوں کو میں دعوت صحافت دیتا ہوں۔ حقائق پر مبنی خبریں ، حقائق و ثبوت سمیت منظر عام پر لا کر دیکھائیں۔ اپنے نام سے ایک بار لگا کر چیک تو کریں کہ یہ پھولوں کی سیج ہے کہ کانٹوں سے بھرا کٹھن سفر۔

صحافی کو غیر جانبدار رہتے ہوئے کسی بھی انجام کی پرواہ کے بنا لوگوں کو اصل حقائق دیکھانا ہوتے ہیں۔جبکہ میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اپنوں کی طرف سے داد کم اور تنقید کا سامنا زیادہ رہتا ہے۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہٰ الا اللہ​

صحافی بننے والا ہر فرد اپنے انجام کی فکر کے بنا مسائل کی نشاندھی کرتا آ رہا ہے اور کرتے رہیں گے۔کسی بھی مسئلہ پر ایکشن انتظامیہ کا کام ہے۔ موجودہ کرپٹ نظام میں صحافیوں کی کوششیں چڑیا کی چونچ میں پانی کے قطرہ سے آگ بجھانے کی کوشش کے مترادف ہیں لیکن تمام تر پابندیوں اور مسائل کے باوجود ہم بھی چڑیا کی کوشش کی طرح اللہ کی بارگاہ میں ظلم کے خلاف کام کرنے والوں میں سے گنے جائیں گے نہ کہ ظالموں میں سے۔
باقی لوگوں کو تو وقت کے اللہ کے بھیجے ہوئے بندوں پر بھی اعتراض رہے ہیں۔ ہم تو ان کے پاوں کی خاک بھی نہیں ہیں۔
میرا سلام ہے ان صحافیوں کو ، جو بنا تنخواہ ،اللہ کی مخلوق کی مشکلات کی نشاندھی کرتے ہوئے، جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہیں۔

چاہتا یہ ہوں کہ دنیا ظلم کو پہچان جائے
خواہ اس کرب و بلا کے معرکے میں جان جائے

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے