بھارت کا کشمیر پلان

تحریر: سید زید زمان حامد

آج میں مسئلہ کشمیر پر اہم ترین باتیں کرنے جارہا ہوں۔ یہ ہماری قوم کیلئے ایک اذان مومن بھی ہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہءحق بھی اور دشمنوں کیلئے مجاہد کی للکار بھی۔عالمی طاقتوں نے کشمیر کو فروخت کردیا ہے۔ بھارت جو کچھ کررہا ہے، عالمی طاقتوں کی مرضی سے ہورہا ہے۔

بنیادی طور پر یہ بھارت، امریکہ اورا سرائیل کی سازش ہے اور اس میں چند خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔ پلان یہ ہے کہ بھارت کشمیر کو اپنے اندر ضم کرلے گا جیسا کہ اس نے اب کرلیا ہے۔دوسری جانب عالمی طاقتیں پس پردہ پاکستان پر شدید دباﺅ ڈال رہی ہیں کہ پاکستان خاموش ہو کر اسے قبول کرلے۔اس وقت پاکستان کی حکومت اور وزیراعظم پر شدید عالمی دباﺅ ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی سنجیدہ اور تباہ کن کارروائی نہ کریں۔ بھارت کو موقع دیا جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تمام تحریک مزاحمت کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ کچل دے۔ یہ عمل اس وقت جاری ہے۔

بھارتی فوج کے پلان کے مطابق پہلے دو تین ہفتے تک تباہ کن کرفیو لگایا جائے گا، تاکہ کشمیر کے ہر گھر میں بسنے والے لاکھوں مسلمان بھوک اور پیاس سے ادھ موئے ہو جائیں اور ان میں مزاحمت کی کوئی طاقت باقی نہ رہے۔اور پھر جب کرفیو اٹھایا جائے تو بچی کچھی مزاحمت کو سختی سے کچل دیا جائے۔بھارتی فوج کا اندازہ ہے کہ اسے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر قابو میں لانے کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک، کشمیری مسلمانوں کو کرفیو اٹھنے کے بعد قتل کرنا پڑے گا۔ بھارتیوں کا خیال ہے کہ اس سفاکانہ قتل عام کے بعد، کہ جس کا کوئی نام و نشان باہر کی دنیا کیلئے نہیں چھوڑا جائے گا، کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ دے گی۔ایک دفعہ جب کشمیری مزاحمت مکمل طور پر دم توڑ جائے، تو مودی کے پلان کا دوسرا حصہ عمل میں لایا جائے گا، کہ جس کے مطابق بھارت آزاد کشمیر پر بھرپور طور پر حملہ آور ہوگا اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں پر قابض ہوجائے گا۔اب یہ موقع ہوگا کہ جب عالمی طاقتیں بیچ میں آکر مصالحت کرانے کیلئے کود پڑیں گی۔

پاکستان کو مجبور کیا جائے گا کہ آزاد کشمیر کے وہ علاقے کہ جن پر بھارت قبضہ کرچکا ہوگا، واپس لینے کیلئے پاکستان لائن آف کنٹرول کوا یک مکمل عالمی سرحد کے طور پر قبول کرلے۔دوسری جانب عالمی طاقتیں پاکستان کو کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی سے روکنے کی ذمہ دار ہونگی۔

جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک مزاحمت دم توڑ چکی ہوگی، اور آزاد کشمیر کے بھی بڑے علاقوں پر بھارت کا قبضہ ہوگا، اورعالمی طاقتیں پاکستان کو بین الاقوامی سرحد کے پار کوئی بڑی کارروائی کرنے سے بھی روک رہی ہونگی، توا یسے میں پاکستان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ بچے کھچے آزاد کشمیر کو لے کر ہی چپ کر جائے۔

یہاں تک پہنچنے کے بعد بھارت کشمیر سے مسلمانوں کے انخلاءکا سلسلہ شروع کرے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو لا کر وادی میں آباد کیے جائیں گے۔ کشمیری مسلمانوں کو یا تو قتل کردیا جائے گا یا دھکیل کر بچے کھچے آزاد کشمیر کی سرحد سے پار بھیج دیا جائے گا۔ کشمیر مکمل طور پر ہندو اکثریتی علاقہ بن جائے گا۔

میں آپ کو صاف بتارہا ہوں کہ عالمی طاقتوں کی اس سازش میں زرداری اور نواز شریف مکمل طور پر شامل ہیں، اور ان کے ساتھ تمام وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ناپاک و پلید غدار، جیسے فضلو، اچکزئی، اسفندیار وغیرہ۔۔۔ یہاں تک کہ خود پی ٹی آئی کی حکومت کے اندر اہم لوگ اس ناپاک کھیل کا حصہ ہیں۔

یہ جو کچھ ہم نے آپ کو اوپر بتایا ہے کہ یہ وہ عالمی سازش ہے کہ جس کے تحت اس وقت بھارت کشمیر میں کارروائی کررہا ہے۔اس تمام سازش کو پلٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے:پاکستان آزاد کشمیر سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائے اور وسیع ترین علاقے کو آزاد کرالے۔اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر ایک بھاری علاقے کو آزاد کرالیتا ہے تو پھر بازی بھارت کے خلاف پلٹ جائے گی۔وادی کے اندر کشمیر کی تحریک آزادی بھی بھڑک کر طوفان بن جائے گی اور مودی سرکار کو جو ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی، وہ پوری بھارتی ریاست کو ہلا کر رکھ دے گی۔

بھارت کے سارے پلان کا انحصار دو باتوں پر ہے، اورا گر ہم ان دو باتوں پر ہی بازی پلٹ دیں تو یہ سارا پلان ناکام ہوجائے گا۔
-1 وادی میں کرفیو اور قتل عام کے ذریعے تحریک آزادی کومکمل طور پر کچل دینا۔
-2 عالمی دباﺅکے ذریعے پاکستان کو مجبورکرنا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں داخل نہ ہوسکے۔

اور یہی دو کام آج ہر حال میں پاکستان کوکرنے ہیں۔ ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے۔ وادی میں کرفیو کو تین دن گزرچکے ہیں۔ لاکھوں کشمیری مسلمان بھوکے پیاسے اپنے گھروں میں محسور ہیں۔ ان پرکیا گزررہی ہے، وہ دنیا میں کسی کو نہیں معلوم۔دوسری جانب عالمی طاقتیں ہمیں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ نہ وہ ڈرنے والا ہے نہ جھکنے والا۔ اب یہ اس کا حتمی امتحان ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وادی کے اندر کشمیری مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں، بھارتی فوج کا سارا پلان آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا ہے۔ ہم نے ان دونوں چالوں کو دشمن کے منہ پر واپس پلٹنا ہے اورفوری۔اگر ہم نے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر بھارتی فوج کے آزاد کشمیر پر حملے کے پلان کو ناکام نہیں بنایا، تو یاد رکھیں، کل آزاد کشمیر کا بہت بڑا حصہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔ اب دفاعی نہیں، جارحانہ جنگ کا وقت ہے۔دشمن خود ہمیں موقع دے چکا ہے، آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے۔

آج ہماری یہ تحریر پاکستان کے حکمرانوں اور قوم پرایک حجت تمام ہیں۔ آج کے بعد پاکستان میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ان کو دشمن کی چالوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ نہ عمران شکایت کرسکے گا، نہ سپہ سالار، نہ پاکستان کی اشرافیہ نہ پاکستان کی قوم۔
مجھے تھا حکم اذاں، اب ان شاءاللہ لرزے گا شبستان وجود۔۔۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے