معمولی سی دکھنے والی سرگرمی موت کا خطرہ 16 سے تیس فیصد تک کم کردیتی ہے

دن بھر میں محض 30 منٹ کی تیز چہل قدمی قبل از وقت موت کا خطرہ لگ بھگ ایک تہائی حد تک کم کردیتی ہے۔ورزش سے دوری موٹاپے کی شکل میں موت کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے خاص طور پر ہر وقت بیٹھے رہنے والے افراد میں دل کے دورے اور فالج کے ساتھ ساتھ کچھ اقسام کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔تاہم تیز رفتار کے ساتھ روزانہ30 منٹ کی چہل قدمی یا سائیکل کو چلانا اس خطرے سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اسی طرح روزانہ جسمانی سرگرمیوں میں معمولی اضافہ جیسے سیڑھیاں چڑھنا وغیرہ بھی صحت کے لیے متعدد فوائد کا باعث بنتا ہے۔روزانہ کچھ وقت جسمانی سرگرمیوں کے لیے نکالیں اور صحت پر اس کے اثرات دیکھ کر آپ خود حیران رہ جائیں گے جسمانی سرگرمیاں ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہونا چاہئے۔ماہرین کے مطابق روزمرّہ زندگی میں پیدل چلنا سرگرم طرزِ زندگی کاایک انتہائی اہم جزو ہے جو افراد سہل زندگی بسر کرتے ہیں وہ موٹاپے دِل کے امراض ذیابطیس بُلند فشارِ خون اور قبض وغیرہ جیسے کئی امراض میں باآسانی مبتلا ہو سکتے ہیں۔اور یہ وہ امراض ہیں جوخود کئی عوارض کی جڑ قرار دئیے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ماضی کی نسبت اب ان بیماریوں کے پھیلاؤ کی شرح بڑھتی ہی جا رہی ہے۔اگرروزانہ تیس منٹ تک پیدل چلا جائے توجسم سے پسینہ خارج ہوتا ہے جو جسم میں موجود زائد چربی ختم کرتا ہے۔اسی طرح اگرصُبح سویرے تازہ ہوا میں چہل قدمی کی جائے تو قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے منفی خیالات سے نجات ملتی ہے ذہن مثبت انداز سے سوچتا ہے اور یہ سب ذہنی صحت کے لیے بےحد مفید ہیں۔ پیدل چلنے سے جسم میں توڑ پھوڑ کا عمل بھی شروع ہوتا ہے جس کی وجہ سے نئے خلیے بنتے ہیں جو جسم میں خون کے دبائو کو کنٹرول کرتے ہیں نیز جسمانی اعضاء کے کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔خالی پیٹ پیدل چلنے سے جسم میں پائی جانے والی انرجی کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین میں کمی واقع ہو جاتی ہے تو جسم ایک نظام کے تحت ان اجزاء کی کمی پوری کرنے کے لیے اپنے اندر موجود ٹاکسن کو اپنی خوراک بنالیتا ہے جس کےمنفی نہیں بلکہ مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں کیوں کہ اس طرح جسم میں موجود سرطان کے جراثیم جسم کی خوراک بن جاتے ہیں۔اِسی طرح پیدل چلنے سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی واقع ہوتی ہے جو جسمانی تھکاوٹ کا سبب بنتی ہےاور یہ تھکاوٹ بھرپور نیند ہی کے ذریعے ختم ہو سکتی ہے لہٰذا پیدل چلنے والے رات میں جلد سوتے اور صُبح تازہ دَم اُٹھتے ہیں جو صحت مندرہنے کا اوّلین اصول ہے۔