واقعہ کربلا حق اور باطل کی جنگ

واقعہ کربلا 10 محرم 61ھ عراق کی سر زمین کربلا کے مقام پر پیش آیا جس میں یزید کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو نا حق بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔حضرت حسین علیہ السلام  کے ساتھ 72 ساتھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا نادراور عجیب و غریب واقعہ ہے ، دنیا میں یہی ایک واقعہ ایسا ہے، جس سے عالم کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں آسمان متاثر ہوا ، زمین متاثر ہوئی شمس و قمر متاثر ہوئے حتی کہ خود خداوندعالم متاثر ہوا اس کا تاثر شفق کی سرخی ہے، جو واقعہ کربلا کے بعد سے افق آسمانی پر ظاہر ہونے لگی ۔یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا ہے اس واقعہ کا پس منظر رسول اور اولاد رسول کی دشمنی ہے ۔ بدر و احد ، خندق و خیبر میں قتل ہونے والے کفار کی اولاد نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرکے اپنے آباد واجداد کا بدلہ حضرت رسول کریم ﷺاور حضرت امیرالمومنین کی اولاد سے بدلہ لینے کے جذبات اسلامی کافروں کے دلوں میں عہد رسول ہی سے کروٹیں لے رہے تھے لیکن عدم اقتدار کی وجہ سے کچھ بن نہ آتی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد جب ۳۸ ہجری میں امیرالموٴمنین برسراقتدار آئے تو ان لوگوں کو مقابلہ کا موقع ملا جو عنان حکومت کودانتوں سے تھام کر جگہ پکڑچکے تھے بالاخر وہ وقت آیا کہ یزید ابن معاویہ خلیفہ بن گیا۔ حضرت علیہ السلام اور حضرت امام حسن علیہ السلام شہید کیے جاچکے تھےعہدِ یزید میں امام حسین سے بدلہ لینے کا موقع تھا ۔ یزید نے خلافت منصوبہ پر قبضہ کرنے کے بعد امام حسین (ع) کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کربلا میں آپہنچے یزید نے بروایت 9 لاکھ فوج بھیجوا کر امام حسین علیہ السلام کو۔ان کے ساتھیوں سمیت بے دردی سے شہید کروا دیا
حضرت امام حسین سے 28 رجب 60 کو مدینہ سے روانہ ہوکر 10 محرم الحرام 61 ھ کو رسول کریم (ص) کی خدمت میں پہنچ گئے، ظالموں نے 7 محرم الحرام سے پانی بند کردیا اور دسویں محرم کو نہایت بیدردی سے تمام لوگوں کو شہید کر ڈالا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کو قیدی بنا کر یزید کے دربار میں پیش کیا گیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی توحین کی گی کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا اس واقعہ کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے، جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضورﷺ اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی، اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی ۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی ۔اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی ۔ لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔
  نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب ہے، یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی، لٰہذا امام حسین نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی ۔امام حسین کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے۔ جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے