ایک اور تباہی

ہم سبھی نے کبھی نہ کبھی کہا یا سنا ضرور ہوگا، کہ بیرونی طاقتیں جیسے کہ امریکہ، اسرائیل، یورپ وغیرہ ہمیں اور مسلم امہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ایک بڑی وجہ ہمارا میڈیا اور تعلیم ہے۔ ہمارے برائٹ سٹوڈنٹ دل لگا کر پڑھتے ہیں، وجہ صرف پیسہ کمانا، اچھی نوکری اور اچھا گھر ہوتی ہے۔
ان برایئٹ سٹوڈنٹ سے پوچھ لیں، میڈیکل کیوں کر رہے ہو، جواب ھوگا ڈاکٹر بن کے ملک کی خدمت کروں گا۔ وہ دراصل خدمت صرف آپ کو امپرس کرنے کے لیئے بول گیا۔ اصل میں تو ماماں پاپا نے میڈیکل اس لیے رکھوایا کہ عزت بھی اور پیسہ بھی۔کسی اور سٹوڈنٹ سے پوچھا کہ بیٹا انجینئرنگ کیو ں کر رہے ہو۔ جواب آیا انکل ملک کی خدمت کرنا چاہتا ھوں۔ ساتھ تھوڑی اور ڈسکشن کی تو پتا چلا کہ انجینئرنگ بچہ تو ویزہ کے لیئے درخواست دے دے تھک چکا اور انتظار ہے تو صرف ایک نوکری اور ویزے کی، اور ملک کی خدمت تو کرے گا۔ پر صرف ہنڈی سے غیر قانونی ڈالر بھیج کے یا پھر ٹیکس بچا کے پلاٹ خرید کے۔ہمارا اکثر نوجوان اسی قباحت کاانتظار کرتا زندگی گزار دیتا ہے کہ پڑھنا وہ مضمون جو نوکری دے ، عزت دے اور بلےبلے دے۔۔۔۔ اسی امید میں جوانی گزر گئی ۔۔۔
پھر چاچے مامو اور ابو جی کے رابطے کی باری آتی ہے ۔ پھر افسران سے لیکر سیاست دان تک سے رابطے کرتے ہیں۔ جو کسی طرح کی نوکری لگوا دے ۔۔۔۔ پھر اسکے ہوئے غلام وہ بھی ساری زندگی۔

جاری ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

This Post Has One Comment

Comments are closed.

زمرے