برین فریز کیا ہے ۔پاکستان میں 4.5 کروڑ لوگ کس بیماری میں مبتلا ہیں

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کوئی ٹھنڈی یخ شے کھاتے ہیں تو چند لمحوں کے لیے ہمارا دماغ سن سا ہوجاتا ہے اور کچھ سیکنڈز کے لیے ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس موقع پر سر میں ہلکا سا درد بھی محسوس ہوتا ہے۔یہ حالت برین فریز کہلاتی ہے یعنی دماغ کا جم جانا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی یخ شے ہمارے منہ کی چھت سے ٹکراتی ہے۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اس کیفیت کا سامنا تمام افراد کو نہیں ہوتا۔امریکا میں صرف 37 فیصد افراد کو اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے، تائیوان میں 4 فیصد بچے اور ڈنمارک میں صرف 15 فیصد بالغ افراد اسےمحسوس کرتے ہیں۔سنہ 1800 سے یہ کیفیت سائنسدانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اور وہ اس کی وجہ اور اس کا علاج جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب کسی حد تک وہ اس کی وجہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔دراصل جب کوئی ٹھنڈی شے ہمارے منہ کی چھت سے ٹکراتی ہے تو یہ ٹرائی جیمینل نامی عصاب (نرو) کو فعال کرتی ہے، اس عصاب کی بدولت ہم سر کے سامنے والے حصے پر سردی یا گرماہٹ محسوس کرسکتے ہیں۔ جب اس عصاب سے ٹھنڈی چیز ٹکراتی ہے تو سر کے سامنے والے حصے میں درد سا محسوس ہونے لگتا ہے۔درحقیقت ہمارے سر میں موجود مختلف اعصاب ہمارے سر کے مختلف حصوں کو متاثر کرتے ہیں اور ان میں تکلیف کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ دانت کا درد جس عصاب کو متاثر کرتا ہے وہ دماغ کے مرکزی حصے میں تکلیف پیدا کرتا ہے۔برین فریز کے وقت سر میں درد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس موقع پر دماغ کی رگیں تیزی سے منہ کی چھت کی طرف خون بھیجتی ہیں جس سے رگیں عارضی طور پر چوڑی ہوجاتی ہیں، اس لیے بھی سر میں تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق برین فریز کا شکار ہونے والے افراد سر درد کی ایک اور پر اسرار قسم میگرین کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ عصبیہ میگرین پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میگرین کو پراسرار اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ تاحال اس کی کوئی وجہ اور علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔اگر آپ بھی اکثر و بیشتر برین فریز کا شکار ہوتے رہتے ہیں تو پریشانی کی بات نہیں، یہ کیفیت صرف 20 سے 30 سیکنڈ تک رہتی ہے اس کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔دوسری جانب پاکستان میں بسنے والے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد آدھے سر درد کی بیماری میں مبتلا ہیں ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 4.5 کروڑ افراد آدھے سر کے درد میں مبتلا ہیں اور متاثرہ افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ نیورولوجی ریسرچ فاؤنڈیشن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا ہر 16واں مرد اور ہر پانچویں خاتون آدھے سرکے درد میں مبتلا ہے اور اس مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ماہرین کے مابق مائی گرین کی بیماری خواتین کے مقابلوں میں مردوں میں زیادہ ہوتی ہے، عام طور پر یہ آدھے سر کا درد 25 سال کی عمر کے افراد میں پایا جاتا ہے۔
مائی گرین میں عام سردرد، جان لیوا سردرد، ذہنی دباؤ، نظام ہاضمہ کی خرابی، پانی کی کمی اور کھانا نہ کھانے سے بھی یہ بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔