ڈالر، پاکستان اور بدمعاشیہ (تحریر راو اظہر نگانوی)

‏ڈالر، پاکستان اور بدمعاشیہ

۔1948 تا 2019
۔3.31 روپے سے 155 روپے تک

1948 Rs. 3.31 to
1971 Rs. 4.76
اس دور میں پاکستان نے صفر سے آغاز کیا، خزانے میں تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں تھے، دفتروں میں پیپر پن کی بجائے کیکر کے کانٹے استمعال ہوتےتھے

اس ہی دور میں پاکستان مستحکم ہوا
‏ہم نے 65 کی جنگ جیتی، پاکستان میں موجود تمام ڈیم اس ہی دور میں بنے، نجی شعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا تھا

پھُولدار پاکستان پھَلدار ہو رہا تھا

1971 Rs. 4.76 to
1978 Rs. 9.90
بھارت نے 65 کا بدلہ لیا، اس نے ہمارے چند غداروں اور مکتی باہنی کے ذریعے سقوط ڈھاکہ کی بنیاد ‏رکھی، “اِدھر ہم اُدھر تم” کا نعرہ بھی مغربی پاکستان کے وسائل پر اپنی مہر لگانے کیلئے لگایا گیا

ترقی کرتی نجی صنعتوں کو نیشنلائز کر کے ایک اور بُقراطی جھاڑی گئی اور بھٹو ایک ایسا آئین بنا کے مر گیا جس کے عین مطابق صرف چور لٹیرے ہی مسلط ہوتے رہے۔۔
1978 Rs. 9.90 to
1988 Rs. 18.00
جنرل ضیاء کا دورِ حکومت

آج کی ساری اپوزیشن اُس دور کی جمہوری سیاسی پارٹیاں تھیں۔ کچھ جنرل ضیاء کے ساتھ تھیں اور باقی “پنکی” کے بڑے ہونے کا انتظار کر رہے تھے

1988 Rs. 18.00 to
1998 Rs. 45.05
اس دس سالہ دور میں نواز لیگ اور ‏اور پیپلزپارٹی نے دو دو بار حکومت کی اور چاروں حکومتوں کا بدعنوانی اور لوٹ مار کے الزامات پر قبل ازوقت خاتمہ ہوا

1998 Rs. 45.05 to
2007 Rs. 60.83
مشرف کے 8 سال

نوازشریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں عمرقید کی سزا ہوئی۔ نوازشریف نے بیک ڈور چینل سے اپنی رہائی کیلئے کوششیں کیں ‏مشرف نے نوازشریف کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور نوازشریف سے کہا کہ وہ صدارتی معافی کیلئے درخواست دے جسے قبول کیا جائے

نوازشریف کی سزا معافی کیلئے لکھی گئی درخواست کا متن یہ تھا👇

میں بیمار ہوں اور مجھے علاج کیلئے باہر جانے کی ضرورت ہے، میری سزا معاف کی جائے۔ نوازشریف
‏دس سال تک سیاست سے دور رہنے کی شرط پر مشرف نے یہ درخواست قبول کر لی اور نوازشریف نکلنے میں کامیاب ہو گیا

مشرف نے نون لیگ اور پیپلزپارٹی سے NRO کر کے سب سے بڑی غلطی کی

2007 Rs. 60.83 to
1st July 2018 Rs. 121.73
اِس دور میں دونوں پارٹیوں نے ایک ایک پوری حکومت اور کی۔۔
‏انہوں نے اس بار وفاقی حکومت کی ہر چیز کو گروی رکھ کے اسے دنیا بھر کا مقروض بنایا اور پھر دونوں پارٹیوں کے (رجسٹرڈ) مالکان نے وفاق کے بچے کھچے وسائل بھی چھیننے کا فیصلہ کیا

دونوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کے ذہنی غلاموں کو بل پاس کرنے کا حکم دیا اور دو ازلی دشمن پارٹیوں کے ‏ممبران نے بھائی چارے کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کے اتنے اہم بل کو اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے بغیر پڑھے پاس کر دیا

اس ترمیم سے

وفاقی وسائل صوبوں کو دے دیئے گئے مگر ملک پر چڑھے ہوئے قرضے اتارنے کی ذمہ داری آج بھی وفاق کی ہے

اسے وفاق پاکستان کو توڑنے کی ‏سازش نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟

پاکستان کے تمام ایئرپورٹ، موٹر ویز، میٹروز، ٹی وی اور ریڈیو سٹیشنز سمیت ہر ہر اثاثے کو گروی رکھ کے وفاق اور قوم پر غیر ضروری قرضوں کا انبار لگایا گیا

آج 1 ڈالر 155 روپے کا ہے، اور پٹواری ذرائع کے مطابق یہ عمران خان کا قصور ہے۔۔😠😠

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے