دنیا کے سب سے بڑے طیارے ’777 ایکس‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے دو انجن والے دنیا کے سب سے بڑے طیارے ’777 ایکس‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال بوئنگ 737 میکس طیاروں کو پیش آنے والے دو حادثات میں 346 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب یہ کپمنی مارکیٹ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ 777 ایکس کی کامیاب پرواز کو ساکھ بنانے کی ایک کوشش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔طیارے نے سیئیٹل سے اڑان بھری اور یہ چار گھنٹوں تک فضا میں رہا۔ اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز پر شدید ہواؤں کی وجہ سے آزمائشی پرواز کو دو مرتبہ ملتوی کیا گیا تھا۔اس سے قبل کہ یہ طیارہ آئندہ برس فضائی کمپنی ایمیریٹس کے فضائی بیڑے میں شامل ہو، اسے مزید آزمائشوں سے گزرنا ہو گا۔777 ایکس طیارہ 252 فٹ لمبا ہے اور رواں سال اسے لانچ کیا جانا تھا مگر چند تکنیکی دشواریوں کے سبب اس میں تاخیر ہو گئی ہے۔بوئنگ کا 777 ایکس اس کے کامیاب منی جمبو 777 کا ہی ایک بڑا اور زیادہ مؤثر ورژن ہے۔ اس کے الگ دکھائی دینے والے فیچرز میں پروں کے مُڑ سکنے والے کنارے اور دنیا کے سب سے بڑے کمرشل انجن شامل ہیں۔
اس طیارے کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر وینڈی سوورز کا کہنا ہے کہ ’یہ ان تمام زبردست چیزوں کا عکاس ہے جو ہم بطور کمپنی کر سکتے ہیں۔‘بوئنگ کا کہنا ہے کہ اس نے 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر قیمت والے اس طیارے کے 309 یونٹس فروخت کر دیے ہیںاس طیارے کا مقابلہ ایئربس کے اے 1000-350 سے ہو گا جس میں 360 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔بوئنگ اپنے 737 میکس طیاروں کے کریش ہونے کی وجہ سے بحران کی شکار ہے۔ دونوں کریش گذشتہ سال پانچ ماہ کے مختصر دورانیے میں ہوئے تھے۔ پہلا اکتوبر 2018 میں انڈونیشیا میں جبکہ دوسرا گذشتہ مارچ ایتھوپیا میں ہوا۔کمپنی پر الزام عائد کیے گئے کہ اس نے طیارے فروخت کرنے میں جلدی کی جس کی وجہ سے خاطر خواہ حفاظتی اقدامات کو پسِ پشت ڈالا گیا، اور اب اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔کمپنی کی کوشش ہے کہ 737 میکس کو پرواز کے لیے دوبارہ منظور کروایا جائے۔
بوئنگ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے طیارے 737 میکس کے گراؤنڈ کیے جانے کی وجہ سے کمپنی کو اب تک نو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔