fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

ابھی انسانیت زندہ ہے ۔حسین دانش

کيچن انڈيا راجستھان کا چھوٹا سا گاوں ہے جہاں کسی زمانے ميں چند ايک کونج کے جوڑوں نے اپنی سالانہ مائيگريشن کے دوران بسيرا کيا.ان گاوں والوں نے ان کونجوں کو مار کے کھانے کی بجائے انہيں خوراک اور تحفظ فراہم کيا.بدلے ميں آج انہی کونجوں نے اس گاوں کی رونق کو چار چاند لگا دئيے ہيں.ہر سال يہاں اب 15,000 کونجيں بسيرا کرتی ہيں اور لوگ ان کو ديکھنے دور دور سے آتے ہيں.بڑے بڑے چينلز والوں نے ڈاکومينٹريز بنائی ہيں ورنہ ہميں کيا پتا تھا کہ کيچن بھی کسی جگہ کا نام ہے.سب اس پرندے کو پيار دينے کا نتيجہ.کيچن ايک غريب طبقے کا گاوں ہے پر پھر بھی ان لوگوں نے ان پرندوں کے لئے بڑی چار ديواری بنائی اور آج بھی يہ گاوں والے ہی ان ہزاروں پرندوں کے اناج کا انتظام کرتے ہيں.اگر يہ پرندے پاکستان آتے تو کيا ہم ان کے ساتھ ايسا سلوک کر پاتے ؟آخر ہم تو مسلمان ہيں اور ہمارا مذہب رحم و پيار کا درس ديتا ہےکيا ہمارے اندر سے انسانيت بلکل ختم ہو چکی ہے.يہ جانور پرندے ہمارے ماحول کا حُسن ہيں.اگر آپ کسی کو ان کے ساتھ ظلم کرتے ديکھنے ہيں اور چپ رہتے ہيں تو آپ بھی اس جرم ميں برابر کے شریک ہیں ۔

تحریر حسین دانش

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے
Close Menu