منم محو جما ل او نمی دانم کجا رفتم

* منم محو جما ل او نمی دانم کجا رفتم
شدم غرق دصال او نمی دانم کجا رفتم

میں اُس کے حسن و جمال میں کھویا ہوا ہوں اور نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں
میں اُس کےدیدار میں ڈوبا ہوا ہوں اور نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

* غلام روئے او بودم اسیر بوئے او بودم
غبار کوئے او بودم نمی دانم کجا رفتم

میں اُس کے رُخ انور کا غلام ہوں ۔ میں اُس کی خوشبو کا دیوانہ ہوں
میں اُس کی گلی کی اُڑتی ہوءی مٹی ہوں۔ نہیں جانتا کہ کہاں جارہا ہوں

* بآں مہ آشنا گشتم زجان ودل من فدا گشتم
فنا گشتم فنا گشتم نمی دانم کجا رفتم

جب سے اُس چاند سے شناسا ہوا ہوں میں دل و جان سے قربان ہو گیا ہوں
میں کھو گیا ہوں مٹ گیا ہوں ۔ نہیں جانتا کدھر جا رہا ہوں

* شدم چون مبتلائے او نہادم سر بپائے او
شدم محو لقائے او نمی دانم کجا رفتم

جب سے اُس کے عشق میں پڑا ہوں ۔اپنا سر اُس کے قدموں پہ رکھ دیا ہے
میں ہمہ وقت اُس سے ملا ہوا ہوں ۔ نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

* قلندر بو علی ہستم بنام دوست سر مستم
دل اندر عشق او بستم نمی دانم کجا رفتم

میں بو علی قلندر ہوں دوست کہ نام پر بیخود ہوں
میرا دل محبوب کی محبت میں گرفتار ہے نہیں جانتا کہ کہاں جا رہا ہوں

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے