ایسی علامات جانیں جن سے واقفیت مختلف طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ہو سکتی ہیں

بیشتر افراد کا خیال ہے کہ ذیابیطس ہی بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے کا باعث ہوتی ہے مگر ایسا بالکل بھی نہیں۔اگر تو آپ بہت زیادہ چینی یا میٹھی اشیاء کھاتے ہیں تو بلڈ شوگر لیول اکثر ہی اوپر کی جانب جاتا ہے۔یہاں ایسی علامات جانیں جن سے واقفیت مختلف طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ان کی شناخت کرکے مناسب اقدامات بروقت کیے جاسکتے ہیں۔بہت زیادہ چینی کا استعمال جلد کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے، ایک طبی تحقیق کے دوران زیادہ میٹھے اور کیل مہاسوں کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ زیادہ میٹھا کھاتے ہیں انہیں کیل مہاسوں کا اکثر اور زیادہ سخت قسم کا سامنا ہوتا ہے۔زیادہ میٹھا کھانے پر منہ میں ایسا ایسڈ پیدا ہوتا ہے جو لعاب دہن کے ساتھ مل کر پلاک کا باعث بنتا ہے، اگر برش کو درست طریقے سے نہ کیا جائے تو ایسا ہونے پر بتدریج دانتوں کی سطح ختم ہونے لگتی ہے اور کیویٹیز کا مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے۔زیادہ چینی والی غذاﺅں کا استعمال بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق زیادہ نمک ہی نہیں بلکہ چینی کھانا بھی ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ درحقیقت تحقیق میں کہا گیا تھا کہ نمک کم کرنے سے زیادہ میٹھے کا کم استعمال صحت مند بلڈ پریشر کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں زیادہ میٹھے اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔ زیادہ میٹھا کھانے سے جسم کے اندر ورم کی سطح بڑھتی ہے اور یہ عنصر ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جتنا بلڈ شوگر بڑھتا ہے اتنا ہی ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔اگر ہائی بلڈ شوگر لیول زیادہ ہو تو جسم کے لیے گلوکوز کو مناسب طریقے سے محفوظ اور جذب کرنا ممکن نہیں ہوتا، توانائی کی کمی کے نتیجے میں جسمانی خلیات کو ضرورت کے مطابق ایندھن نہیں مل پاتا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر بغیر کسی وجہ کے تھکاوٹ طاری رہتی ہے۔گلوکوز سطح میں اضافے کے نتیجے میں بہت کم وقت میں جسمانی وزن میں کمی ہوتی ہے، چاہے زیادہ کھانا ہی کیوں نہ کھایا جائے، اس کی چند وجوہات ہوتی ہیں، جیسے پیشاب کے ذریعے سیال کا اخراج، انسولین لیول کی سطح میں کمی کی صورت میں جسم چربی جلانے لگتا ہے، جبکہ زیادہ پیشاب کرنے سے زیادہ گلوکوز کا اخراج ہوتا ہے جس کے باعث جسم کو زیادہ کیلوریز کی ضرورت پڑتی ہے، یہ سب عوامل جسمانی وزن میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔پیشاب کی نالی کی سوزش اور Yeast انفیکشن مردوں اور خواتین دونوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جسم میں شوگر لیول کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں مختلف جراثیموں کی نشوونما کے سازگار ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو ان امراض کا باعث بنتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ شوگر بڑھنے کے نتیجے میں لوگ زیادہ چڑچڑے اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ دماغ کو گلوکوز کی سپلائی متاثر ہونا ہے۔ہائی بلڈ شوگر خون کی شریانوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں دوران خون متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر مختلف اعضائی، جو زخموں کو جلد ٹھیک نہیں ہونے دیتا۔نظر کا دھندلانا بھی ہائی بلڈ شوگر کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن کے باعث ہوتا ہے جو کہ آنکھوں کے خلیات پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایسا ہونے پر آنکھ مناسب طریقے سے فوکس کرنے کی اہلیت سے محروم ہونے لگتی ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے