fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

سنگاپور۔ کرونا وائرس کی ویکسین کے تجربہ کے عمل کو تیز کرنے کا طریقہ دریافت

کرونا وائرس ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سنگاپور میں سر جوڑے کرونا کے اعلاج کیلئے ویکسین کی تیار میں مصروف سائنسدانوں نے ویکسئین کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ سنگاپور کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک تکنیک دریافت کی گئی ہے جس کے ذریعے صرف چند دنوں میں ویکسئین کے موثر ہونے یا نہ ہونے کا پتا چل سکے گا۔ یہ تکنیک سنگاپور کے مذکورہ میڈیکل سکول میں دریافت کی گئی ہے۔ بہترین طریقہ دریافت کرنے کے بعد امریکی بایو ٹک کمپنی نے کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسیئن سنگاپور کے سائنسدانوں کو فراہم کر دی ہے۔ اس سے قبل کورونا وائرس کے تیار کی جانے والی ویکسئین کو لوگوں پر استعمال کرکے کی جسمانی تبدیلوں کو دیکھا جاتا تھا ۔ تاہم اب نئے طریقے سے چند دنوں میں ہی ویکسئین کے موثر ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چل سکے گا۔ واضح روس ، فرانس اور امریکہ میں کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسئین تیار کر لی ہے ۔ تاہم ان پر ٹیسٹ جاری ہیں ۔ تاہم نیا طریقہ دریافت ہونے ستے اس کے ٹیسٹ کے عمل میں تیزی آسکے گی۔ اس سے قبل سائنسدان سائبیریا کی ایک لیبارٹری میں ممکنہ کورونا وائرس ویکسئین کو مختلف جانوروں پر ٹیسٹ کررہے ہیں۔ سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک پچیدہ عمل کے بعد کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے چھ مختلف پلیٹ فارمز پر کام کرتے ہوئے ویکسئین تیار کی گئی ہے جس کو پیر کےروز سے مختلف جانوروں پر ٹیسٹ کیا جار ہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ویکسئین کو مارکیٹ میں آتے ایک سال سے 18 ماہ تک کا وقت درکار ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات کیلئے زیادہ تر چوہوں کو استعمال کیا جاتا ہے تاہم دیگر جانوروں پر اب اس ویکسئین کا استعمال کرکے اثرات کو جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے
Close Menu