fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

کورونا وائرس کی وجہ سے ایشائی مارکیٹس کریش کر گی کاروبار ٹھپ

خطرناک وبا نے جہاں دنیا بھر میں ہزاروں جانیں لے لی ہیں وہیں ڈیلرز خدشات سے آراستہ اثاثوں سے بھاگ کر محفوظ پناہ گاہوں کی جانب جارہے ہیں جس کی وجہ سے سونے اور ین کی قیمت بڑھ رہی ہے اور امریکی خزانے نئے ریکارڈ یعنی کم ترین سطح کی جانب جارہے ہیں۔جہاں حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے محرک اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا گیا وہیں کورونا وائرس کا پھیلاؤ معیشتوں پر ایک بہت بڑا دباؤ ڈال رہا ہے اور عالمی بحران کے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ ٹوکیو سڈنی اور منیلا میں اسٹاک مارکیٹ 6 فیصد تک کم ہوئی جبکہ ہانگ کانگ میں کھانے کے وقفے تک مارکیٹ میں 3.5 فیصد تک کمی سامنے آئی۔ممبئی، سنگاپور، سیئول، جکارتہ اور ویلنگٹن 3 فیصد سے زائد کم ہوئیں، شنگھائی اور تائی پی میں کم از کم 2 فیصد کمی آئی جبکہ بنکاک کی مارکیٹ 5 فیصد تک گری۔یہ نقصانات جمعے کے روز یورپ اور وال اسٹریٹ میں تیزی سے کمی کے پیروی میں رہیں۔اس کمی کی ایک اور اہم وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی تھی جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کی جانب سے پیداوار پر تنازع کی وجہ سے تیل میں کمی کے اعلان کے بعد رونما ہوئی۔ دونوں اہم تیل کے برآمد کار، جو پہلے ہی وائرس کی وجہ سے طلب میں کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، نے تیل کی قیمت 30 فیصد تک کم کی جو 1991 میں خلیجی جنگ کے بعد سب سے تیزی سے کم ہوئی۔آرگنائزیشن برائے پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز (اوپیک) کی پیداوار میں کمی کی پیشکش کو روس کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے تیل پر جنگ کا آغاز قیمتوں کو 20 سال کی کم ترین سطح پر لاکر کیا۔
ریاض نے اپریل کے لیے قیمتوں کو کم کرکے ایشیا کے لیے 4 سے 6 ڈالر فی بیرل اور امریکا کے لیے 7 ڈالر فی بیرل کردیا۔روس کے فیصلے سے پہلے ہی قیمتوں میں کمی آئی تھی جبکہ اس خدشے کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر دونوں جانب سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا تو قیمتیں مزید کم ہوں گی۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے
Close Menu