fbpx

The Report Center – رپورٹ سنٹر

کورونا وائرس کے خلاف جنگ پوری قوم کی مدد سے ہی جیتی جا سکتی ہے وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ پوری قوم کی مدد سے ہی جیتی جا سکتی ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں غریب طبقہ کا دھیان رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، ٹرانسپورٹ کی بندش سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، خوف اور گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلوں سے مثبت نتائج نہیں آتے، گذشتہ روز تک پاکستان میں کورونا کے 900 مصدقہ مریض تھے جن میں صرف 153 مقامی ہیں، زیادہ تر متاثرین بیرون ملک سے آئے ہیں، ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمانی رہنمائوں کی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںکورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے حوالہ سے شرکاء کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، 15 فروری کو کورونا وائرس سے متعلق اجلاس منعقد کیا، اس وقت صرف چین میں وائرس پھیلا تھا، چین سے رابطہ میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، یہ طلباء چین کے شہر ووہان میں پھنسے ہوئے تھے، ان طلباء کے والدین نے انہیں واپس لانے کی بھی اپیل کی، ان طالب علموں کو یہاں لا کر حاجی کیمپ میں رکھنے کا منصوبہ تھا تاہم اس سے یہ وباء پھیلنے کا خطرہ تھا، چین سے ابھی تک ایک بھی کورونا کیس پاکستان میں نہیں آیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے بعد ایران میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا، چین کے مقابلہ میں ایران میں کورونا کے خلاف صلاحیت بہت کم تھی اور ان کے پاس سکریننگ اور قرنطینہ کی سہولتیں بھی موجود نہ تھیں، تفتان بارڈر پر زائرین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، 28 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو تفتان بارڈر پر بھیجا اور انہوں نے وہاں صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال سے بھی رابطہ میں رہے، پاک فوج کے تعاون سے تفتان بارڈر پر زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ عمران خان نے کہا کہ اب تک ایئرپورٹس پر9 لاکھ افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے، گذشتہ روز تک پاکستان میں کورونا کے 900 مصدقہ مریض تھے، پاکستان میں کورونا کے صرف 153 مقامی مریض ہیں، زیادہ تر متاثرین بیرون ملک سے آئے ہیں، ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اس وقت بلایا جب ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد صرف21 تھی جس کے بعد یونیورسٹیز، کالجز، کرکٹ میچز اور عوامی اجتماعات کو فوری بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان نے صوبائی سطح پر مختلف قسم کا لاک ڈائون کیا ہے، 18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاک ڈائون کے معاملہ پر کنفیوژن ہے، ہمیں ٹرانسپورٹ بند کرنے والے لاک ڈائون پر دوبارہ غور کرنا چاہئے، ٹرانسپورٹ کی بندش سے ملک میں مختلف مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، خوف اور گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلوں سے مثبت نتائج نہیں آتے، گلگت بلتستان میں ٹرانسپورٹ کی بندش سے تیل کی کمی پیدا ہو گئی ہے، ملک میں اس وقت گندم کی کٹائی کا سیزن ہے، ٹرانسپورٹ کی بندش سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میں وفاق اپنا مؤقف پیش کرے گا اور اجلاس میں ملک میں کورونا کے باعث پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے کر نئی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 25 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے اشیاء خوردونوش کی فراہمی متاثر ہو گی، ہم 75 فیصد دالیں درآمد کرتے ہیں، کراچی پورٹ بند ہونے سے دالوں کی کنٹینرز پورٹ پر پھنس گئے اس کیلئے کراچی پورٹ کو کھلوایا گیا، اس حوالہ سے جو بھی اقدامات کئے جائیں گے اس کے معاشرے پر اثرات مرتب ہوں گے، ہمیں اس معاملہ پر مسلسل مشاورت کرنی چاہئے، ڈیٹا کا تجزیہ کرکے مؤثر اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کا آخری مرحلہ کرفیو ہے، کورونا پر اگر کرفیو لگانا ہے تو گھروں میں راشن فراہم کرنا پڑے گا، اس کیلئے بہت بڑے سٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے، کرفیو لگانے سے پہلے مکمل تیاری کرنی چاہئے، لوگوں کو گھروں میں کھانا فراہم کرنے کیلئے رضا کاروں کا نظام وضع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون سے صنعتیں بند ہوں گی، برآمدات متاثر ہوں گی، تعمیراتی صنعت کو چلنا چاہئے، اس طرح مزدوروں کے گھروں کا چولہا جلے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ پوری قوم کی مدد سے ہی جیتی جا سکتی ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں غریب طبقہ کا دھیان رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قائدین کی تجاویز کا خیرمقدم کریں گے

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے
Close Menu