دیہی سکول کا ہیڈ ماسٹر اور تعلیمی چیکر کی آمد (دلچسپ مگر فرضی)

(تحریر راو جعفر نگار) اردو ادب و فن میں دلچسپی رکھنے والےحضرات کے لئی آج تقریباً آٹھ بجے صبح ہیڈ ماسڑ کو باوثوق ذراٸع سے اطلاع ملی کہ تعلیمی چیکر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ شہر سے نکل چُکا ھے اور امکان غالب ھے کہ وہ آپ کے سکول میں بلاٸے ناگہانی بن کر ٹوٹ پڑے۔

چنانچہ ہیڈ ماسڑ نے یہ سنتے ھی سکول میں فوراً طبل جنگ بجا دیا۔ چنانچہ سکول کا نظم و نسق جنگی بنیادوں پر قاٸم ھونا شروع ھو گیا۔ اوّل مدرس رجسٹر حاضری مدرسین بخل میں دبائے دفتر کی طرف بھاگا، تاکہ جس ماسٹر کے خانے خالی ہیں، ان میں چھٹی درج کر کے اس کو قانونی حفاظتی حصار میں لیا جا سکے۔
چنانچہ ایک ماسٹر نے برق رفتاری سے درخوست مکمل کرتے ھوئے اپنی ایک جنبشِ قلم سے ماسٹر طارق کی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
چپراسی بھی جو سارا دن مکٸ کی چھلیاں کھاتا رہتا تھا یا موباٸل کی ہینڈ فری کان میں لگاٸے سارا دن ڈاکٹر کا سٹاٸل بناٸے ”نصیبو“ کے گانے سنتا رہتا تھا وہ بھی اب جھاڑو پکڑے ایسے ”پُوچھڑی“ مارنے لگا ،جیسے ابھی ابھی کسی نے اس کی چابی بھر دی ہو۔

بچوں میں ”کاغذ چنو“ مہم اس جوش و خروش سے شروع کرا دی گٸ کہ پورا سکول پانی پت کی پہلی جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
پی ایس ٹی حضرات میں بھی سراسیمگی پھیل چکی تھی اور وہ ایل این ڈی کی پُل صراط کو پار کرنے کے لیے
”جل تو ،جلال توں۔۔۔۔۔ آٸی بلا کو ٹال توں“
کا ورد فرما رہے تھے۔ تمام پی ایس ٹی حضرات ایل این ڈی کے کتابچے ہاتھوں میں تھامے تیسری کلاس کی طرف قدم رنجہ فرمانے لگے۔
سب سے پہلے تو ماسٹر سلیم نے جا کر تیسری کلاس کے سامنے ”طارق بن زیاد“ والی تقریر کی اور آخر میں بچوں کے آگے ھاتھ باندھ کر کہا ”خیال کرنا کہیں فوجی کے آگے میری عزت کا جنازہ نہ نکال دینا“
چنانچہ ریہرسل کے طور پر سلیم صاحب نے 4×5 کا جواب پوچھا۔۔۔۔۔ تو مستقبل کے ایک معمار نے بڑے اعتماد کے ساتھ غلط آپشن پر ٹھاہ کیا۔
چنانچہ غلط نشاندہی پر ماسٹر سلیم کسی بپھرے ہوۓ قوال کی طرح اٹھا اور مصطفی قریشی کی طرح ”مولا بخش“ کی تلاش و بسیار میں ”سر“ مارنا شروع کر دیا،بڑی مشکل سے انھیں (مار نہیں پیار) والا نعرہ یاد دلایا۔۔۔۔ مگر بلڈ پریشر نیچے نہ آسکا۔
آخر کار زبان کے نیچے گولی رکھی گئی، ٹھنڈے پانی کی بوتل سر پر ڈالی تب کہیں جا کر استاد محترم کے مزاج کی طلاطم خیز ی میں کچھ کمی واقع ہوئی۔ چنانچہ آٹھویں کلاس کے گھبرو جوان منگواٸے گٸے جنہوں نے استاد سلیم کو ”ٹنگا ٹولی“ کیا اور ریسکیو کی غرض سے دفتر لے آٸے۔

اس کے بعد ماسٹر رسول بخش نے اُردو مضمون کے ساتھ تیسری کلاس میں اپنی قسمت آزماٸی شروع کی ،چنانچہ کسی بد مزگی سے بچنے کے لیے سب سے ہوشیار طالب علم سے پہلا آپشن پوچھا، ہاں بچے ”ابا“ کی مٶنث کیا ھے؟
تو اس مردِ مجاھد نے استاد کی تعلیمی کاوشوں کا مان رکھتے ھوۓ ”امّاں“ کی بجاٸے ”خالہ“ کے آپشن پر کلک کر کے اپنی گھریلو زندگی کا خلاصہ ایک سیکنڈ میں پیش کر دیا۔

بس جناب اس پہلے آپشن کے ساتھ ھی استاد رسول بخش کے دماغ کی بتی فیوز ھو گٸی اور وہ دلبرداشتہ ھو کرخود کشی کے جذبے سے سر شار ھو کر بجلی کے مین سوٸچ کی طرف لپکے۔۔۔۔۔ مگر ماسٹر خالد نے راستے میں دبوچ لیا۔ اور ان کی خود کشی کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا۔
اب سر بلال ”انگلش ٹیچر“ لنگوٹ کستے ھوٸے تیسری کلاس میں ایک نٸ امید کے ساتھ وارد ھوٸے۔ مگر اِن کو بھی پیش روٶں کی طرح منہ کی کھانی پڑی۔ کیونکہ بچے تین مہینے گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر اب ”کورے کے کورے“ بن کر آ گٸے تھے۔ اچانک سر بلال کے سقراطی دماغ نے خلاٸی مخلوق کو ماموں بنانے کا ایک نایاب طریقہ ایجاد کر لیا۔
بچوں سے فرمانے لگے کہ
”اب دل کے افسانے اشاروں کی زبان تک پہنچیں گے“

بچو آپ اشارے درج ذیل نوٹ فرما لیں۔ اور ذہن نشین کر لیں
1) اگر سر کھجاٶں تو پہلے آپشن پہ ٹک کرنا ھے
2) اگر کُھتی شریف (گردن کے پیچھے)کُھجاٶں تو آپشن دوسرا ہو گا
3) اگر ٹھوڑی کھجانا شروع کر دوں تو تیسراآپشن ٹھیک ھو گا

المختصر! پانچ منٹ کی محنتِ شاقہ کے بعد بچے وزیر آباد کے چاقو بن چکے تھے اور سر بلال فاتحانہ انداز میں کلاس روم سے باہر آ گٸے
لہذا اب ہم سوٸی میں دھاگہ ڈال چکے تھے اب انتظار تھا تو بس خلاٸی مخلوق کی طشتری کے زمین پر اترنے کا۔

آخر کار ایک گھنٹے بعد اچانک فوجی صاحب سپاٹ چہرہ لیے سکول آ دھمکے۔ آتے ھی تیر کی رفتار سے سیدھے واش روم کی طرف لپکے۔ خلاٸی مخلوق کے ”بیتُ الخلاٸی“ انداز کو دیکھ کر ھم سکتے میں آ گٸے اور وہ ماہر پلمبر کی طرح ہزاروں نقاص کی نشاندہی کے علاوہ اساتزہ کو صفاٸی پر لیکچر دیا اور واش روم کی فوٹو گرافی کی۔۔۔۔ تاکہ اساتزہ کو دفتر کی سیر کراٸی جا سکے۔
آخرکار تیسری کلاس کی ”ایل این ڈی“ کے ذریعے بچوں کی ذہنی استعداد اور اساتذہ کی محنت کی جانچ پڑتال شروع ھو گٸ۔
چنانچہ ہماری طرف سے” سر بلال “باڈی لینگوٸج کے رموزو اوقاف سے لیس ھو کر خلاٸی مخلوق کے خلاف میدان میں اترے۔
چنانچہ ابتدا سے ہی سر بلال کو سر میں خارش شروع ہو گٸ کبھی کُھتی، کبھی ٹھوڑی تو کبھی سر ، پر کھجلی۔ آخر کار فوجی صاحب نے کسی جِلد والے ڈاکٹر سے علاج کا کہہ کر موصوف کو کمرے سے نکا ل باھر کیا۔ مجھے اور ہیڈ ماسٹر کو بھی حفظ ماتقدم کے طور پر یہ کہہ کر باہر جانے کا کہہ دیا کہ شاٸد اس الرجی کا حملہ آپ کو بھی ھو سکتا ھے۔
آخر کار ہم سب نے ”یا تُکا۔۔۔۔۔۔ تیرا آسرا“ کا کہہ کر بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور دفتر آ کر بیٹھ گٸے۔
منقول

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے