روس کی چال تیل کے ذخائر کا ہتھیار کے طور ہر استعمال

(تنویر کھوکھر) روس نے پٹرول کے ساتھ جو کھیل کھیلا ھے اس نے امریکی، برطانوی شیل کروڈ آئل کا بھرکس نکال دیا ھے. روس نے سعودی عرب اور اوپیک سے تیل کی پیداوار کا جو معاہدہ ایک پچھلے سال کیا تھا اسکی تجدید نا کرکے امریکہ اور اسکے حواری عربوں کو زبردست جھٹکا دیا ھے.روس نے سعودی اور اوپیک ممالک کی درخواست رد کرتے ھوئے تیل کی سپلائی کو کم نہیں کیا۔۔۔۔ جس سے تیل کی کھپت میں کمی ساتھ قیمتیں کم ھونا شروع ھو گئیں.
کیونکہ روس نے اپنے تیل کے ذخائر کو پہلی بار ہتھیار کے طور ہر استعمال کیا ھے. اور اسکا پہلا ٹارگٹ امریکی شیل کمپنیاں تھیں جو کہ سمندر سے مہنگی سروسز کے زریعے تیل نکال رہیں تھیں.جب عام مارکیٹ میں تیل زیادہ سستا ھوا تو امریکی شیل کمپنیوں کو اپنے ملک میں خریدار کم ھونا شروع ھوگیے.اور آج اسکی اپنی تیل کی مارکیٹ بیٹھ گئی.عربوں نے مناسب وقت پر روس کی منت سماجت کرکے روس کو کسی حد تک قائل کر لیا ھے کہ وہ مزید پیداوار کو کم کر دے.کرونا کرائسسز کے بعد تیل 25 سے 35 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت جا سکتی ھے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے