آج تو لیبر ڈے کی چھٹی ہے

آج تو لیبر ڈے کی چھٹی ہے
ہاں چھٹی ہے تو ؟؟
لیکن آپ کام پہ آئے ہیں

صاحب چھٹی تو سرکاری اداروں کو ہے
ہمیں کیوں ہو گی؟؟

کیا بات کر رہے ہو یار!
تم مزدوروں کی وجہ سے آج پوری دنیا میں چھٹی ہے اور تم کام کر رہے ہو
صاحب ہم جس دن کام پہ نا آئیں اس دن ہمارے گھر چولہا نہیں جلتا
ہم یہاں کمر توڑ محنت کرتے ہیں تبھی دن میں دو وقت دال روٹی کا بندوبست ہوتا ہے

ہمیں بھی کل ٹھیکیدار نے کہا تھا جو چھٹی کرنا چاہے اسے اجازت ہے
اور میں نے سوچا تھا کہ چلو اک عرصے بعد چند لمحات اپنے بچوں کے ساتھ گزار لوں گا بچے بھی خوش ہو جائیں گے اور ان بوسیدہ ہڈیوں کو بھی تھوڑا آرام مل جائے گا

لیکن صاحب ہم غریبوں کی قسمت میں خوشیاں کہاں ہوتی ہیں، چھٹی کا سوچا ہی تھا کہ رات اچانک چھوٹی بیٹی کی طبیعت خراب ہو گئی

دوا دارو کا پانچ سو کا خرچہ نکل آیا
بڑی بیٹی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے کو تیار ہے اس کے جہیز کی فکر الگ ہے
بیٹا پانچویں کے بعد چھٹی میں داخلہ کیلئے کتابوں کا مطالبہ کرتا ہے اور میں ہر روز اگلے دن پہ ٹال دیتا ہوں
اب آپ ہی بتاؤ میں لیبر ڈے مناؤں یا کیا اپنے بچوں کی ضروریات کیلئے آج بھی کام کروں؟؟

انکل میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے لیکن کیا مجھے بھی آج یہاں کام مل سکتا ہے میں آدھا دن کام کرنا چاہتا ہوں ؟؟
ہاں آج تین چار لڑکے چھٹی پہ ہیں ٹھیکیدار سے مل لو وہ تمہیں بھی رکھ لے گا
قصہ مختصر ٹھیکیدار نے مجھے دوپہر دو بجے تک مزدوری پہ رکھ لیا
میری نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہلکا پھلکا کام ہی مجھ سے کرایا گیا مثلا
اب چائے لا دو، یہ تگاری اسے پکڑا دو
ادھر سے دو بالے یہاں لاؤ وغیرہ وغیرہ
سارا وقت وہاں کام کرتے مزدوروں سے گپ شپ ہوتی رہی اور ان کے حالات اور معاشرے کی ایسے حساس طبقے بارے بے حسی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا رہا

واپسی پر مبلغ چار سو روپے مجھے بطور مزدوری ادا کئے گئے
اور وہ چار سو میں نے چپکے سے افضل کو تھما دیئے اور کہاں کچھ اور ڈال کے بیٹے کو کتابیں لے کر چھٹی جماعت کیلئے سرکاری اسکول میں داخل کرا دینا
اور فورا واپسی کی راہ لی

یہ کہانی لکھنے کا مقصد خود نمائی یا واہ واہ کرانا نہیں بلکہ اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ کیا کبھی ہم نے مزدوروں کا درد محسوس کرنے کی کوشش کی؟؟
یہاںسوشل میڈیا پر تو ہم میں سے ہر شخص یکم مئی کو ایک شعر، کوئی ہلکی سی تحریر اپنی وال کی زینت بنا کر اپنے تئیں فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہے
لیکن کتنے لوگ ہیں جنہوں نے آج کے دن کسی مزدور کی خبر گیری کی ؟؟
اس کے حالات معلوم کیے یا بساط بھر مدد کرنے کی کوشش کی؟؟
اور صرف آج ہی کیوں ؟؟
کبھی ہم نے سوچا کہ
پورا سال ہمارے گھر میں آنے والے پلبر، الیکٹریشن یا دوسرے مزدوروں سے ہمارا رویہ کیسا رہا ؟؟
ہم نے سخت گرمی میں کام کرتے ہوئے انہیں ٹھنڈے پانی کا ہوچھا ؟؟
ان کے آرام کا خیال رکھا ؟؟
مزدوری میں انکا خیال رکھا؟ جتنا انکا حق بنتا تھا دیا؟؟
ایک دفعہ کہیں جانا تھا رکشے والے نے سو روپیہ مانگا جو کہ بہت زیادہ تھے والد صاحب نے اسی روپے پہ چلنے کو کہا اور منزل پہ پہنچ کر ابو نے اسے پورے سو روپے ادا کر دیئے
میں بڑا حیران ہوا کہ جب اس نے سو مانگے تب اسی کرا لیے اب خود ہی سو دے دئیے
ابو جان نے کہا بیٹا جب تم مزدور کو طے شدہ مزدوری سے زیادہ پیسے دیتے ہو اس وقت اسکی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور دل سے تمہارے لئے دعائیں نکلتی ہیں
آپ کبھی ایسا کر کے تو دیکھئے حقیقی خوشی نصیب ہو گی مزدور کو بھی اور اس کی دعاؤں کی بدولت آپ کو بھی
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے اور مزدوروں سے دھتکارے ہوئے لہجے میں بات کرتے ہیں
کچھ کہو تو جواب ملتا ہے پیسے دینے ہیں یار فری میں تھوڑی کام کر رہے ہیں
ابھی چند دن ہہلے میری چھوٹی بہن کی شادی تھی اگلے روز جب کیٹرنگ والے لڑکے آئے تو وہ کہنے لگے ہم دوسری منزل سے کرسی نہیں اتاریں گے
اسی بات پہ میں نے کچھ سخت جملے بول دیئے
ابو جان نے فورا مجھے ٹوکا اور کہا بیٹا یہ مزدور لوگ ہیں یوں لڑنا اچھی بات نہیں وہ جو کام کریں انکی مرضی اور انکار کر دیں تو بھی انکی مرضی

خیر ابو جان نے بعد میں اس لڑکے کو بلایا اور میری طرف سے معذرت کی اور ہماری جپھی ڈلوائی پھر چائے مٹھائی سے انکی تواضع کی اور بعد ازاں طے شدہ مزدوری سے تین چار سو زائد دیئے
بس اتنی سی بات پہ وہ چار پانچ لڑکے اتنے خوش تھے کہ ان کے چہرے تمتما رہے تھے
بات کرنے کا مقصد کیا ہے سلیم الفطرت شخص سمجھ ہی گیا ہو گا
آج لیبر ڈے ہے آئیے اللہ کو حاظر ناظر جان کر عہد کرتے ہیں کہ پورا سال ہر مزدور کو اسکی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر اسکا حق وقت پر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حتی المقدور انکی مدد کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے

خدا ہمارا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے