آئندہ سال بجٹ میں کسی بھی ٹیکس میں اضافہ نہ کیا جائے، سٹیٹ بنک

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ 5جون 2020تک مختلف بینکوں نے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی میں مدد دینے کے لیے 21ارب روپے کی فنانسنگ کے لیے درخواستیں منظور کر لی ہیں،روزگار اسکیم کے تحت فنانسنگ حاصل کرنے میں کاروباری اداروں کودر پیش مسائل کا ازالہ کر یں گے۔ایف پی سی سی آئی ترجمان کے مطابق ان خیالات کا اظہارانہوںنے ویڈیو لنک اجلاس کے ذریعے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے عہدیداروںاوردیگر چیمبرز کے صدور کو اسٹیٹ بینک روزگار اسکیم کے تحت رسک شیئرنگ سہولت کااستعمال بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کرنے کے موقع پر کیا۔ڈاکٹر رضا باقر نے اسٹیٹ بینک روزگار اسکیم کے تحت رسک شیئرنگ سہولت کا استعمال بہتر بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی کے علاوہ ان پندرہ ریجنز جہاں ایس بی پی(بی ایس سی)کے دفاتر واقع ہیں ان کے ٹریڈ چیمبرز کے صدور سے ویڈیو لنک پر خطاب کیا۔گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضاباقر نے ایف پی سی سی آئی اور تمام ٹریڈ چیمبرز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرتے بتایا کہ 5جون 2020تک بینکوں نے ایس ایم ایز اور چھوٹے کارپوریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی میں مدد دینے کے لیے 21ارب روپے کی فنانسنگ کے لیے درخواستیں منظور کر لی ہیں۔روزگار اسکیم کے تحت فنانسنگ حاصل کرنے میں کاروباری اداروں کودر پیش مسائل کا ازالہ کر یں گے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے کہاکہ اسٹیٹ بینک اپنا کردار ادا کرے گا تو بہت ساری صنعتیں اور معیشت بچ جائے گی ۔لا ک ڈائون کی وجہ سے 60سے 70روز اندسٹری نہیں چلی ہے،مارک اپ اور تنخواہوں کی ادائیگی بہت بڑا بوجھ ہے۔ معیشت چلے گئی تو روزگار رہے گا ورنہ معیشت کے حالات بہت برے ہو ںگے۔انہوںنے کہاکہ ساڑھے چار فیصد جو مزید شرح سود کم کیا ہے اس کا کسی کاروبار کو کوئی فائدہ نہیں ہو، موجودہ حالات میںاتنے زیادہ شرح سود پر کاروبار کرنانا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان اوپن کر دیا جائے اورجو جہاں بھی نئی انڈسٹری لگا نا چاہے اس کو اجازت دی جائے۔ریجنل چیئرمین ایف پی سی سی آئی ڈاکٹر محمد ارشد نے کہاکہ پورے پاکستان کیلئے کاروبار کرنے کی ایک جیسی پالیسی ہونی چاہیے۔ جوجس بھی شعبہ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اس سے آمدنی کا ذریعہ نہ پوچھا جائے۔ شرح سود کو مزید کم کیا جائے اور توانائی کی لاگت میں بھی کمی کی جائے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی بھی ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے