آسمانوں کے شاہین سیف الاعظم جہان فانی سے کوچ کر گئے

آسمانوں کے شاہین سیف الاعظم جہان فانی سے کوچ کر گئے۔سیف الاعظم 1941 میں پیدا ہوئے تھے۔ اور انہوں نے 1960 سے 1971 تک پاکستان ایئر فورس میں بطور پائلٹ خدمات انجام دیں۔سیف الاعظم نے 1965 کی جنگ میں بھارتی طیارہ مار گرا کر پاکستان کے د فاع میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا تھا۔اسرائیل اور بھارتی طیاروں سمیت پانچ طیاروں کو نشانہ بنانے پر انہیں ACE بھی قرار دیا گیا تھا۔ گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سیف الاعظم 1971 کے بعد بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے تھے اور 1989 تک خدمات انجام دیں۔سیف الاعظم کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ اردن اور عراق کی فضائیہ کے لیے بھی طیارے اڑانے کا اعزاز حاصل تھا ،ان کا طرہ امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے اسرائیل کے سب سے زیادہ یعنی 4 طیارے مار گرا کر تاریخ رقم کی تھی۔ سیف الاعظم نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اردن اور عراق کی جانب سے فضاؤں کا جو بے مثل دفاع کیا تھا وہ زبان زد عام ہے۔ چار طیارے مار گرانے کا ان کا یہ اعزاز 2012 تک قائم رہا تھا۔سیف الاعظم ایک ایسے فائٹر پائلٹ تھے جنہیں ٹاپ گن ٹرافی سے بھی نوازا گیا تھا۔2001 میں امریکی حکومت نے انہیں لیونگ ایگل قرار دیا تھا جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا۔گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سیف الاعظم کا انتقال گزشتہ روز 14 جون کو ہوا فلسطین کے سفیر نے سیف الاعظم کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقی معنوں میں محب وطن شخص تھے اور ہماری موجود رہیں گے۔
ایئرچیف نے عظیم جنگی ہیرو گروپ کیپٹن (ر) سیف الاعظم کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔1965 کی پاک بھارت، 1967کی عرب اسرائیل جنگ میں سیف الاعظم کے کارناموں پرخراج عقیدت پیش کیا۔سیف الاعظم کو بھارتی جنگی طیارہ مار گرانے پر”ستارہ جرات” سے نوازا گیا تھا

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے