توہین عدالت پر اہم گرفتاری ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عدلیہ مخالف توہین آمیز ویڈیو از خود نوٹس کیس پر سپریم کورٹ نے عدلیہ کی بے توقیر ی کرنے والے قاضی افتخارالدین مرزا ،اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں،پولیس نے علامہ قاضی افتخارالدین مرزا کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا۔معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل یہ آپکا ادارہ کیا کر رہا ہے۔ آپ نے اس سارے معاملے پر کیا کاروائی کی،ایف آئی اے کی طرف سےکچھ نہیں کیا گیا،ججز نے پہلے بھی کچھ شکایات ایف آئی اے کو بھیجیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جو کچھ ہوا یہ مکمل طور پر ہمارے لئے ناقابل قبول ہے،کاروائی کے لئے معاملہ ایف آئی سائبر کرائم ونگ کو بھیجا گیا،ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم 2016 کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔بعد ازاں کیس کی سماعت دو جو لائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔یاد رہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو موصول دھمکی آمیز ویڈیو کا نوٹس لیا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ دھمکی آمیز ویڈیو میں اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی۔اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے دھمکی آمیز ویڈیو کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا،اس کیس کی سماعت کل صبح کورٹ نمبر ایک میں ہوگی۔خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کروائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے خاوند کو قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں، پولیس کارروائی کرے۔مسز سرینہ عیسیٰ کی طرف سے جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہےکہ ایک شخص اُن کےخاوندکوایک ویڈیو میں قتل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کو قتل کی دھمکیاں دینا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا تھانے میں جمع کروائے گئے مواد کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی جائے اور پولیس اس معاملے پر ایکشن لے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے