جولائی میں پٹرول کی ریکارڈ در آمد کا فیصلہ

حکومت نے گزشتہ دنوں پٹرول کی قلت اورمستقبل میں کھپت میں اضافے کے امکان کے باعث جولائی میں پٹرول کی ریکارڈ در آمد کا فیصلہ کیا ہے ۔وزارت توانائی و پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حکومت نے جولائی میں سات لاکھ سات ہزار ٹن پٹرول در آمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک ماہ کے دوران اب تک در آمد کی جانے والی پٹرول کی سب سے زیادہ مقدار ہوگی۔ذرائع کے مطابقگزشتہ دنوں پٹرول کی شدید قلت کے باعث حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا ،لہذا آئندہ ماہ پٹرول کی وافر مقدار در آمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،حکومت نے پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت دیگر نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی وافر مقدار میں در آمد اور معمول کے مطابق سپلائی کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اب پٹرول کی قلت کی صورت میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔حکومت نے جولائی میں4لاکھ30ہزار ٹن ڈیزل کی در آمد کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔پٹرولیم ڈویژن نے اس کے ساتھ ہی مقامی ریفائنریوں کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار میں اضافے کی ہدایت کی ہے تا کہ طلب کو پوراکیا جاسکے ، حکومت نے گزشتہ دنوں پٹرول کی قلت اورمستقبل میں کھپت میں اضافے کے امکان کے باعث جولائی میں پٹرول کی ریکارڈ در آمد کا فیصلہ کیا ہے ۔وزارت توانائی و پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حکومت نے جولائی میں سات لاکھ سات ہزار ٹن پٹرول در آمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک ماہ کے دوران اب تک در آمد کی جانے والی پٹرول کی سب سے زیادہ مقدار ہوگی۔ جولائی میں مقامی ریفائنریوں کی جانب سے 4لاکھ20ہزار ٹن خام تیل در آمد کیا جائے گا۔پروازوں کی بحالی کے بعد جیٹ فیول ون کی در آمد میں بھی اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جولائی میں10ہزار ٹن جیٹ فیول ون در آمد کیا جائے گا،آئندہ ماہ 2ہزار ٹن ہائی اوکٹین کی در آمد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ نیفتھا کی بر آمد کا تخمینہ 8ہزارٹن لگایا گیا ہے ۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے