قومی اسمبلی کا اجلاس، مچھلی منڈی کا منظر

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان کی نازیباگفتگو‘اسپیکراسد قیصر نے نامناسب الفاظ کے استعمال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رولنگ دی کہ کسی کو بھی ایسے الفاظ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی جن سے اس ایوان اور اس کے ارکان کی توہین ہو،تضحیک آمیز ریمارکس پر کارروائی کرسکتا ہوں۔ اگر حکومتی رکن نے غیر پارلیمانی اور نامناسب زبان استعمال کی ہےتو اس کیخلاف سخت کارروائی کروں گا ، کل اور پہلے بھی قادر پٹیل نے نامناسب اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے،میں اس معاملہ کی ویڈیو نکلوائوں گا اور جائزہ لیکر ایکشن لونگا۔ نوید قمرنے کہاکہ گزشتہ روز جو باتیں کی گئیں اس میں حکومتی رکن بھی شامل تھےلیکن آپ نے صرف ایک ممبر کا نام لیا ہے‘مشیر پارلیمانی امور بابراعوان نے کہاکہ کسی بھی ممبر کو کسی کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے ۔ ایم کیو ایم کے اسامہ قادری نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے، حکومت نے کراچی کو نظر انداز کیا‘شگفتہ جمانی نے کہا سندھ کے ساتھ سوتن والا سلوک ہورہا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں سندھ کے برابر اضافہ کیا جائے‘ آفتاب حسین صدیقی نےکہاکہ 18 ویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں، اس میں بہتری ہوسکتی ہے، وحید عالم خان نے کہا کہ عمران خان نے پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگیوں کو داو پر لگا دیا ہے ، عمران خان کے آگے پیچھے دائیں بائیں مافیا کھڑا ہے ، آپ کے جھوٹے وعدوں کا آسیب قبر تک آپکا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ وزیراعظم کیخلاف الزام پر مبنی گفتگو پر ڈپٹی اسپیکر نے میاں وحید عالم کا مائیک بند کردیا، ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہاکہ دو ہزار اٹھارہ میں ملک اناڑیوں کے حوالے کیا گیا، غیرمنتخب لوگوں نے بجٹ بنایا ہے۔ دریں اثناء ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے ایوان میں ذاتیات پر بات کی اجازت نہ دینے کی عمومی رولنگ جاری کردی ، خواجہ آصف نے کہا کہ رولنگ کسی خاص فرد کیلئے نہیں ہونی چاہئے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے