قومی اسمبلی کا اجلاس یا مچھلی منڈی،عوام کرونا سے مر رہے ہیں اور ۔۔۔۔۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی بجٹ پر بحث جاری رہی، اس دوران تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید اور اپوزیشن کے درمیان تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس کو وقتی طور پر ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں عوامی مسائل پر بات کرنے کی بجائے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے صرف مچھلی منڈی کا منظر ہی نظر آسکا۔ کرونا کی وجہ سے عوام مسائل کا شکار ہیں، جبکہ سیاست دان قومی اسمبلی میں صرف اپنا سیاسی چورن بیچتے ہی نظر آئے۔ مراد سعید کی جانب سے خواجہ آصف کو جھوٹا اور اپوزیشن اراکین کو ’’او چور بیٹھو‘‘کہا گیاجس پرایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا، گالم گلوچ ہوئی،سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔مرادسعید کاخطاب شروع ہوتے ہی بلاول بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے تمام ارکان ایوان سے چلے گئے ۔منگل کوقومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔ خواجہ آصف نے کہا وزرا سے کچھ بیانات منسوب کیے گئے کہ بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بن جائے تو قیامت نہیں آئیگی،اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بات کی گئی۔خواجہ آصف کے نکتہ اعتراض کو جھوٹا کہنے پر اپوزیشن نے مراد سعید کیخلاف احتجاج کیا ۔ مراد سعید نے گفتگو شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا۔مراد سعید نے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ یہاں سے کوئی اٹھے اور دھمکیاں دی جائیں۔مراد سعید کے خطاب پر شور شرابا شروع ہو گیا اور اپوزیشن، حکومتی اراکین میں بحث چھڑ گئی۔ قاسم سوری نے کہا کہ میں کسی کی دھمکی میں نہیں آؤں گا اور ہاؤس قانون کے مطابق چلے گا۔سپیکر نے مسلم لیگ ن کے رانا تنویر کو گفتگو کی اجازت دی لیکن حکومتی اراکین خصوصاً مراد سعید نے انہیں بولنے کا موقع نہ دیا۔مراد سعید اور شیخ روحیل اصغر میں تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا ،اراکین نے ایک دوسرے کو گالم گلوچ کی۔ مراد سعید کی جانب سے اپوزیشن کو کہا گیا کہ او چور بیٹھو جسکے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا۔مراد سعید مستقل اپوزیشن اراکین کو کو چور کہہ کرمخاطب کرتے رہے ۔ ہنگامہ آرائی کے سبب سپیکر کو اجلاس 10منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔بعدازاں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتوں میںکوئی صداقت نہیں ۔عرب ممالک کے دباو میں آکر ہرگز اپنی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کر رہے ۔ شاہ محمود نے کہا کہ بیان پر اعتراض کیا گیا کہ بھارت کے سکیورٹی کونسل کا رکن بننے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ واضح کرنا چاہتاہوں بھارت کے مستقل رکن بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان اور بھارت 7، 7 مرتبہ سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن رہ چکے ہیں۔قبل ازیں بلاول بھٹو نے بحث میں حصہ لیتے ہوئےکہا کہ 2020 کا بجٹ ہمارا بجٹ نہیں ہو سکتا ، اندازہ ہونا چاہیئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ، پاکستان میں اس وقت کورونا سے 15 منٹ بعد ایک شخص جان کی بازی ہار رہا ہے ،ایسے حالات میں ایسا بجٹ نہیں ہونا چاہیئے ،یہ بجٹ کورونا ، ٹڈی دل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ،یہ بجٹ پاکستان کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ۔ رانا تنویرنے کہا کہ ہم نے 900 ارب سرکولر ڈیٹ چھوڑا، اب 2 ہزار پر پہنچ گیا،جواب دینا والا کوئی نہیں،بہانہ ہوتا ہے پچھلی حکومت نے کیا ۔اگر ملک جادو ٹونہ سے چل سکتا ہے تو کورونا ختم کرا دیں۔رانا تنویر کے الفاظ پر حکومتی اراکین سیخ پا ہو گئے ،ڈپٹی سپیکر نے معاملہ رفع دفع کرا یا۔ اپوزیشن نے اخراجات سے متعلق بجٹ کی گلابی کتابیں فراہم نہ کرنے پرشدید احتجاج کیا۔ نویدقمرنے کہا کہ پہلی مرتبہ بجٹ پیش ہوا جسکے متعلقہ ڈاکومنٹس ایوان میں نہیں دئیے گئے ،ہم سے بجٹ پر ووٹ لیا جا رہا ہے تو بتایا جائے کہ بجٹ میں ہے کیا۔ بابر اعوان نے اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت کی اورکہا کہ ہائوس کا پیغام وزارت خزانہ کو دیدیں گے ۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے