قوم کرونا سے پریشان، ہارون الرشید کھلبلی مچانے میں ناکام

پوری پاکستانی قوم کرونا کی وجہ سے پریشان ہے، جہاں نظام زندگی متاثر ہوا ہے وہاں شہریوں کی معاشی اور ذہنی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس مشکل کی گھڑی میں حکومت تو کارگردگی دکھانے میں ابھی تک ناکام نظر آتی ہے، لیکن ہمارے سینئیر صحافی، اینکررز اور مفکر بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت پر وار کرنے میں مصروف ہیں۔ میڈیا مافیا، کرپشن مافیا، شوگر مافیا، آٹا ماگیا اور حکومت مافیا کی اس جنگ میں عوام صرف پریشان حال ہی نظر آتے ہیں

ملک کے مشہور سئنئیر صحافی، جن کی پیشن گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں، انہوں نے ایک اور دعوہ کردیا ہے۔ معروف صحافی اور تجزیہ کارہارون رشید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ کل سے یہ افواہ گرم تھی کہ مریم نواز اور مونس الٰہی کی ملاقات ہوئی ہے ، جس شخص نے مجھے بتایا ، میں نے اسے کہا کہ میں اس خبر کو چمٹے سے پکڑنے کو بھی تیار نہیں ہوں۔ہارون رشید کا کہنا تھا کہ میں نے ایک بار چوہدری پرویز الٰہی سے پوچھا کہ کیا آپ شہباز شریف کے ساتھ چل سکتے ہیں تو چوہدری صاحب نے معنی خیز قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیں جانتے ہیں، ہم انہیں جانتے ہیں۔ہارون رشید نے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے، چوہدری برادران حکومت چھوڑ کر کہیں نہیںجائیں گے لیکن حکومت کیلئے بجٹ پاس کروانا مشکل ہے، انہیں اپنے ہر آدمی کو اسمبلی میں لانا پڑے گا۔یاد رہے کہ کچھ دن سے یہ افوا ہ گرم تھی کہ مریم نواز نےپرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کو جاتی عمرہ بلا کر ان کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ ان کے درمیان پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے پلان اور ن لیگ کی شمولیت پر گفتگو ہوئی۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مریم نواز نے مونس الٰہی سے کہا کہ پنجاب میں بڑی تبدیلی کے پلان میں ن لیگ کی شمولیت سے متعلق چوہدریوں نے پارٹی صدر شہباز شریف کو شریک کر کے’’ مناسب‘‘ جگہ “رجوع نہیں کیا اور ن لیگی اراکین اسمبلی کی اکثریت نوازشریف کے فیصلے کی منتظر ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے