نسلی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہو تو متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں

برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کے پرستاروں نے ہیری کے والد اور برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کی ایک حالیہ تقریر پر تنقید کی ہے جس میں انہوں نے زیادہ تر تنوع پر گفتگو کی تھی۔ کلرینس ہائوس نے ایک آن لائن تقریر شیئر کی جوکہ ونڈرش ڈے کے حوالے سے تھی۔ یہ تقریب کیریبئن کے مہاجرین، 1948 میں اپنی آمد کے بعد برطانوی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کےحوالے سے مناتے ہیں۔ تقریر میں شہزادہ چارلس نے برطانیہ میں تنوع کی تعریف کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں جو تنوع ہے وہی ہماری عظیم طاقت ہے اور یہ ہمیں اس قدر فوائد پہنچاتا ہے کہ ہم اس پر خوشی مناتے ہیں۔ اسکے تھوڑی ہی دیر بعد پرنس آف ویلز (شہزادہ چارلس کا شاہی خطاب) پر آن لائن تنقید کے تیر برسنا شروع ہوگئے، جس میں ان پر اس حوالے سے تنقید کی جارہی تھی کہ وہ اپنی بہو میگھن مارکل پر برطانوی پریس کی جانب سے جو غیر منصفانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور انہیں بلاوجہ دبائو کا سامنا ہے اس پر وہ بالکل خاموش ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نے اس موقع پر تحریر کیا کہ شاہی خاندان کے چند اراکین اور برٹش میڈیا کا میگن مارکل کے ساتھ جو رویہ ہے اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ شیشے کے محلوں میں رہنے والے لوگوں کو سنگ باری نہیں کرنا چاہئے۔ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ صرف خالی خولی الفاظ ہیں، جو آپ کی جانب سے آرہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ آپ ان پر یقین بھی رکھتے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو آپ برٹش میڈیا کی جانب سے اپنی بہو میگھن جوکہ آپ کے خاندان میں تنوع کی واحد مثال ہیں، کو مصلوب کرنے پر خاموش نہ رہتے۔ ایک اور شخص نے تحریر کیا کہ شہزادہ چارلس اپنے خاندان میں تنوع کو عظیم طاقت نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ اسے سلیبریٹ کرتے ہیں، یہ صرف لفظی باتیں اور افسوسناک ہے۔ ایک تبصرے میں کہا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ چند روز بعد شاہی خاندان کا کوئی فرد کسی خوبصورت افریقن امریکن سے شادی کرلے اور اسکے بعد خاندان اس فرد کے ساتھ جب اسے نسلی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہو متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں اور اس کی مددکریں۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے