نواز شریف کی والدہ پر 108 کنال اراضی پر قبضے کا انکشاف معاملہ عدالت تک جا پہنچا

لاہور( نیوز ڈیسک) لاہور کی مقامی عدالت میں شہری رابعہ روشن کی جانب سے درخواست دائر کی گئی کہ جاتی امرا کے علاقے میں بیگم شمیم اختر نے اس کے خاندان کی 108 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کے رجسٹری کا انتقال خارج کیا جائے۔نوازشریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے زمین51 لاکھ 48 روپے کے عوض خریدی اور اراضی پر غیر قانونی قبضے کا دعویٰ جھوٹا ہے اور سوال اٹھایا گیا کہ دعویدار خاتون رابعہ روشن کی جانب سے اتنے لمبے عرصے تک رجسٹری کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔بیگم شمیم اختر نے کہا کہ یہ دعویٰ میرے خاندان کو بلیک میل کرنے کیلئے دائر کیا گیا ہے عدالت اس دعوے کو نہ صرف مسترد کرے بلکہ جھوٹے دعوے پر درخواست گزار کو جرمانہ کیا جائے۔ عدالت نے معاملے پر فریقین کے وکلا کو 15جولائی کو طلب کر لیا۔دوسری جانب نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نیب دفتر پہنچ گئے۔ نیب نے شہباز شریف کو آج طلب کر رکھا تھا، شہبا زشریف نیب آفس پہنچے تو اس موقع پر ن لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، ن لیگی کارکنان نےشہباز شریف کے حق میں نعرے لگائے اور گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، کارکنان نے شہباز شریف کے ہمراہ آگے جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے رکاوٹ لگا دی اور کارکنان کو آگے جانے سے روک دیا،اس موقع پر کارکنان کی جانب سے نعرے بازی کی جاتی رہی، پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود تھی۔ نیب نے چندروز قبل شہباز شریف کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے جس پرنیب نے ماڈل ٹاؤن میں چھاپہ مارا اور شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن دو گھنٹے بعد پتہ چلا کہ شہباز شریف گھر پر نہیں ہیں حالانکہ انہوں نے کرونا سے بچاؤ کے لئے قرنطینہ کیا ہوا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے جاتی عمرہ بھی چھاپہ مارا اور اس کے بعد ایک اور ن لیگی رہنما کے گھر بھی چھاپہ مارا تا ہم شہباز شریف کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ، شہباز شریف نے ضمانت کے لئے درخواست دائر کی ہوئی تھی شہبا زشریف کی گرفتاری کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں ٹیمیں موجود تھیں لیکن عدالت نے شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے