پسند کی شادی کیس۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من الله کی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی لودھراں کی ملیکہ فاطمہ اور اس کی بہن کی تحفظ کیلئے دائر درخواست پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ بدھ کو سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہا کہ عدالت کے حکم پر لڑکی کا میڈیکل کرایا گیا۔ اس موقع پر عدالت نے ایس ایچ او سے استفسارکیا کہ ایس ایچ او صاحب آپ نے کیا انوسٹی گیشن کی،جس پر ایس ایچ او تھانہ شمس کالونی نے عدالت کو بتایاکہ20 جنوری کو لڑکی نے شادی کی، فیس بک پر لڑکے سے پانچ سال پہلے رابطہ کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا کام یہ تفتیش کرنا نہیں ہے۔ عدالت کو یہ بتائیں کہ لڑکی کا خاوند کہاں ہے جس پر ایس ایچ او نے جواب دیاکہ لڑکی کا خاوند نہیں ملا،جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ایس ایس پی نے کیا انوسٹی گیشن کی،ایس ایس پی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں ایک شخص غائب ہے، اب آپ لوگ ذمہ دار ہیں، کوئی انسان ہیں جو آ کر آپ کو کہہ رہے ہیں کہ ہماری جانوں کو خطرہ ہے۔ چیف جسٹس اطہر من الله نے استفسارکیاکہ دوسری جانب کیا کوئی طاقت ور لوگ ہیں جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہاکہ نہیں وہ عام لوگ ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عام لوگ نہیں ہیں اگر عام لوگ ہوتے تو یہ نہ ہو رہا ہوتا۔ ایس ایچ او نے بتایاکہ لڑکی نے اپنے خاوند کا نمبر دیا تھا وہ نمبر بند ہے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ پھر آپ چھٹی کریں اور گھر بیٹھ جائیں، اگر آپ نے مدعی کے بتائے ہوئے پر کام کرنا ہے تو وہ خود یہ کر لینگے، آپکو ریاست نے کیوں ذمہ داری دی ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے