پنجرے سے طوطے اڑانے پر تشدد کر کے بچی قتل کیس۔ تھقیقت پر عدم اعتماد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ملحقہ شہر راول پنڈی میں پنجرے سے طوطے اڑانے پر تشدد کر کے قتل کی جانے والی بچی کے والدین نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول بچی زہرہ بی بی کے اہلِ خانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، مقتول بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ حکومت رقم نہیں انصاف دے۔ زہرہ بی بی کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ راولپنڈی پولیس ان سے بالکل تعاون نہیں کر رہی، انہیں حکومتی امداد نہیں انصاف چاہیے۔ زہرہ بی بی کے والد طاہر شاہ کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بچی کی والدہ نے ان کی مرضی کے خلاف زہرہ بی بی کو پڑھائی کے لیے راولپنڈی بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں ان کی بیٹی پر کیا کیا ظلم ڈھائے گئے؟ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بچی زہرہ بی بی کے قتل کے ملزم اور اس کی بیوی کو بھی پھانسی پر لٹکایا جائے۔ 3 جون کو راولپنڈی میں طوطے اڑانے پر 8 سالہ ملازمہ بچی کو گھر کے مالک اور بیوی نے مبینہ طور پر تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔ راولپنڈی کے تھانہ روات کی پولیس نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی میاں بیوی کے خلاف بچی کے قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔ مقتول بچی زہرہ بی بی کا تعلق مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی سے تھا، جس کی تدفین آبائی علاقے کے قبرستان میں کر دی گئی ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے