پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کے وکیل تبدیل

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کے وکیل تبدیل ہو گئے، بابراعوان کے ایسوسی ایٹ رائے تجمل اب کیس میں وزیراعظم عمران خان کی وکالت کریں گے۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں وکیل رائے تجمل نے وزیراعظم عمران خان کے وکیل کے طور پر بیان حلفی جمع کروا دیا ، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے پاور آف اٹارنی پر دستخط کروا کے آئندہ سماعت پرعدالت میں جمع کروا دونگا۔ رائے تجمل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بابر اعوان وزیراعظم کے مشیر بننے کے بعد اب عدالت میں بطور وکیل پیش نہیں ہوسکتے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی آئندہ سماعت 13 جولائی کو ہوگی۔ واضح رہے کہ عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو ستمبر 2018 ءمیں حاضری سے مستقل استثنا دیا تھا، ان کے وکیل بابر اعوان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہر پیشی پر پیش ہونے کا بیان حلفی جمع کرایا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جاری پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے وکیل بابر اعوان کو تبدیل کرنے کی درخواست جمع کرادی۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان کی جگہ ان کے معاون عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے وکیل بابر اعوان کو تبدیل کرنے کی درخواست دی گئی۔ درخواست میں معاون وکیل نے استدعا کی کہ بابر اعوان وزیراعظم عمران خان کے مشیر تعینات ہوچکے ہیں لہٰذا نیا وکیل مقرر کرنے کیلئے وقت دیا جائے۔ عدالت نے ملزمان کی وکیل تبدیل کرنے کیلئے مہلت کی استدعا منظور کرلی اور کیس کی سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ہی بابر اعوان کو وزیراعظم عمران خان نے مشیر برائے پارلیمانی امور مقرر کیا ہے جن کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے خلاف 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے 126 روزہ دھرنے کے دوران ہنگامہ ہوا اور کارکنان نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر دھاوا بھی بولا تھا۔ اس موقع پر ریڈزون میں ہنگامہ آرائی پر مقدمہ درج کیا گیا جس میں موجودہ وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت عارف علوی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر نامزد ہیں۔ صدر مملکت کو ان کیسز میں صدارتی استثنیٰ حاصل ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے