کابینہ کا اجلاس اہم فیصلے

وفاقی کابینہ میں وزیر سائنس وٹیکنالوجی فوادچوہدری کے بیان پر گرما گرمی ‘فیصل واوڈا نے کابینہ ارکان کو کھری کھری سنادیںاورسینئر قیادت پر الزام عائد کیاکہ نااہل وزراء اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنا شروع ہوگئے ہیں‘ کابینہ کے اندر سے لوگ سازشیں کررہے ہیں یہاں گیم ہورہی ہے‘ ایک موقع پر فیصل واوڈا اسد عمر اور شاہ محمود قریشی پر برس پڑے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ آپ دونوں تو وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں‘ اس میں کیا شک ہے؟ آپ کی لڑائی سے حکومت کا نقصان ہوا ہے۔ وزیراعظم نے فیصل واوڈا کومزید بات کرنے سے روک دیا اور وزراءکو الٹی میٹم دیا کہ وہ 6ماہ میں کارکردگی بہترکرلیں ورنہ معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے بتایاکہ اجلاس میں فواد چوہدری کے انٹرویوپر بات ہوئی ہے‘ وزیراعظم نے کہاہے کہ وزراء بیان بازی میں احتیاط کریں ‘معاملات باہر نہ جائیں ‘ وزیراعظم نے پٹرول اور ڈیزل کی کوالٹی یورو 2 سے یورو فائیو تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جوپٹرول کی درجہ بندی میں یور2 سے یورو 5 پرمنتقل ہوگا‘ وفاقی کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل اور فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ایکٹ2020ءکے مجوزہ مسودے کی منظوری دیدی ہےکابینہ نے قصرِ ناز کراچی اور چنبہ ہاؤس لاہور کو تیس سال کے لئے لیز پر دینے۔ محکمہ موسمیات کے تمام ملازمین کے حوالے سے پاکستان لازمی سروسز ایکٹ 1952ء کے اطلاق میں مزید چھ ماہ کی توسیع کرنے کی منظوری دی جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان(ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کے چھ ممبران کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کو سیاسی گفتگو میں احتیاط برتنے اورتمام کابینہ ارکان کو آئندہ کوئی متنازع بیان نہ دینے کی ہدایت کردی ‘وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فواد چوہدری کے اسد عمر اور جہانگیر ترین سے متعلق بیان پر بحث ہوئی‘ اسد عمر کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا‘ ایک وفاقی وزیر کو گفتگو کرتے ہوئے خیال کرنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ فواد چوہدری نے اجلاس میں بیان سے متعلق وضاحت دی کہ میرا بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر چلایا گیا‘ میں نے ماضی میں ہونے والی صورتحال پر بات کی۔کابینہ اجلاس میں بعض وزراء اور مشیروں کی کارکردگی پر بھی گرما گرم بحث ہوئی‘وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کابینہ ارکان کو کھری کھری سنادیں۔ کابینہ ذرائع کے مطابق فیصل واوڈا نے کہا کہ وزراءکی نااہلی کی وجہ سے حکومت بدنام ہو رہی ہے‘ واوڈا اجلاس میں وزیر اعظم کے حق میں بولتے بولتے غصے میں آگئے۔ انہوں نے اسد عمر ‘رزاق دائو د اور ندیم بابر کی پالیسیو ں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اندر سے لوگ سازشیں کررہے ہیں یہاں گیم ہورہی ہے‘ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے‘ کابینہ میں کچھ کہا جاتا ہے باہر کچھ اور کہتے ہیں ۔ نااہل وزراء اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھنا شروع ہوگئے ہیں‘کابینہ میں سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے ‘گراؤنڈپر کارکردگی کچھ اورہے‘ہم پی ٹی آئی کا نظر یہ دبنے نہیں دے سکتے ہمیں ہرطرح کی رپورٹ ہے کون کیا کررہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فیصل واوڈا کو جذباتی ہوتے دیکھ کر پرسکون ہونے کا کہا‘وزیر اعظم فیصل واوڈاکوکابینہ اجلاس سے اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے گئے۔ وزیر اعظم نے ان سے کہا ’’فیصل واوڈا ریلیکس ہوجائو، میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں‘‘۔اجلاس کے بعد میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ وزیرِاعظم نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تحقیقات کے لئے کمیشن کا قیام عوامی مفاد میں کیا گیا‘متعلقہ ادارے مقررہ مدت میں اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کی روشنی میں تمام معاون خصوصی کی جانب سے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی جا رہی ہیں‘اب تک ایک مشیر اور تین معاونین خصوصی کی جانب سے اثاثہ جات جمع کرانا باقی ہیں جو کہ جمع کرادیے جائیں گے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے