کیا فروغ نسیم حکومت سے علیحدہ ہونے جا رہے ہیں اہم خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک)بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایک وزیر نے جسٹس فائز کیس میں وزیراعظم کو غلط اطلاع دی، میں جب سے وزیر بنا ہوں میری آمدننی کم ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ ببطور وزیر میں ایک لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہا ہوں جبکہ بطور قانونی ماہر میری کمائی لاکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ روزنامہ دنیا کے مطابق بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا فیصلے کے بعد وزیراعظم کو بتایا گیا حکومت کیس ہار چکی ہے ، ایک وزیر نے کہا کہ سب کچھ ختم ہو گیا۔بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بعد ازاں میں نے اور شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہم کیس جیت چکے ہیں، جس کے بعد بریفنگ دینے والے وزیر نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ پڑھا ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ سمجھے بغیر مٹھائی کھانے والوں کا مذاق نہ اڑایا جائے ،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب میں فیصلہ کروں گا کہ دوبارہ وزیر بننا ہے یا نہیں، وزیر بننے کے بعد مجھے بہت مالی نقصان ہوا، کہاں ایک اچھے وکیل کی فیس اور کہاں ایک لاکھ تنخواہ!دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی راجہ ریاض نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کچھ کام نہیں کر پا رہے، لوگوں سے نوکریوں کے وعدے بھی پورے نہیں ہو سکے، جس طرح ہماری اس حکومت میں تذلیل ہو رہی ہے، میں استعفیٰ دینے پر بہت سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں میں اس پر اپنے دوستوں اور عزیزوں سے مشاورت کر رہا ہوں اور ان سے مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لوں گا۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے، فواد چوہدری کے بیانات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے درمیان تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جبکہ کئی اراکین حکومتی پالیسیوں سے نالاں دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ہم الیکٹ ہو کر ا سمقام تک آئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے نان الیکٹبلز لوگوں کو آگے لایا جا رہا ، اگر یہ ڈیلیور نہ کر سکے تو عوام کو جواب ہم نے دینا ہے انہوں نے نہیں کیونکہ یہ الیکٹ ہو کر آگے نہیں آئے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے