علی ظفر اور ان کی اہلیہ عائشہ کو کس نے اور کیسے اغوا کیا

لاہور:(نیوز ڈسک)گلوکار علی ظفر آج شہرت کے عروج پر ہیں مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے پرل کانٹی نینٹل لاہور میں ایک سکیچ آرٹسٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور یہ بھی شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ علی ظفر اور ان کی اہلیہ عائشہ فضلی اغواءبھی ہو چکے ہیں۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق علی ظفر اور ان کی اہلیہ کے اغواءکا یہ واقعہ 12سال قبل 2008ءمیں پیش آیا تھا۔اغواءکاروں نے انہیں صرف 6گھنٹے تک مغوی رکھا۔ انہوں نے علی ظفر اور عائشہ فضلی کے والدین سے 25لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور تاوان کی رقم مل جانے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ ان دونوں کو لاہور میں سی ڈی شاپ کے باہر سے اغواءکیا گیا تھا اور اغواءکار ان کی گاڑی بھی لے گئے تھے۔ وہ ان دونوں کو تین گھنٹے تک ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہے اور انہیں کہا کہ وہ اپنے والدین سے 25لاکھ روپے کا بندوبست کرنے کو کہیں ورنہ انہیں گولی مار دی جائے گی۔ عائشہ کے والدین تاوان کی رقم اغواءکاروں کو دی جو گلبرگ لاہور کے ایک شاپنگ پلازہ کے باہر دی گئی۔ اس کے بعد اغواءکاروں نے علی ظفر اور عائشہ کو رہا کر دیا مگر جاتے ہوئے علی ظفر کا موبائل فون ساتھ لے گئے تھے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

زمرے