مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کراچی ضلع وسطی ڈپٹی کمشنر تعینات

مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن کو کراچی میں ضلع وسطی کا ڈپٹی کمشنر تعینات کردیا گیا۔حکومت سندھ کی جانب سے جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن کی تعیناتی پر تحریک انصاف سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تحریک انصاف کراچی کے جنرل سیکرٹری سعید آفریدی کا کہنا ہے کہ ضیاء الرحمٰن کی تعیناتی کا مقصد اے پی سی کو کامیاب بنانا ہے۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے تقرری کو سیاسی اقربا پروری کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ خواجہ اظہار نے ڈی سی وسطی کی تقرری کو کراچی سے زیادتیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ضیاءالرحمٰن کی تعیناتی میں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا، ان کا کوئی ٹیسٹ نہیں لیا گیا۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے ڈی سی کی تقرری کو انتظامی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہونا کوئی گناہ نہیں۔ جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ضیاء الرحمان کی تعیناتی چاروں صوبوں میں کہیں بھی ہو سکتی ہے، دہری شہریت والے کابینہ میں بیٹھ سکتے ہیں تو ضیاء الرحمان تو پاکستانی شہری ہیں۔پی ٹی آئی کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جسکے مطابق ضیاء الرحمن کو فرحان غنی کی جگہ ڈی سی سینٹرل تعینات کیا گیا ہے۔ضیاء الرحمن کا تعلق پرووینشل مینجمنٹ سروس خیبر پختونخوا سے ہے، ضیا الرحمن کی خدمات سندھ حکومت کے حوالے کی گئی تھیں اور انہیں تاحکم ثانی ڈپٹی کمشنر وسطی تعینات کیا گیا ہے۔ سابق ڈی سی سینٹرل فرحان غنی کا تبادلہ کرکے ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ تعینات کردیا گیا ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے رہنما چراغ پا ہیں۔وزیر امور کشمیرعلی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ کا مولانا فضل الرحمان کے بھائی بغیر ٹیسٹ اور میرٹ بھرتی ہوئے، پتہ نہیں کس قانون کے تحت فضل الرحمٰن کے بھائی کو سول سروسز میں لایا گیا۔مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی تعیناتی پر پی ٹی آئی کراچی کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی سعید آفریدی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کو تعینات کرنے کا اقدام آل پارٹیز کانفرنس کو کامیاب کرنا ہے۔مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی تعیناتی پر تحریک انصاف کے ردعمل پر وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ ناصرحسین شاہ نے کہا کہ ضیا الرحمٰن خیبرپخنوتخوا میں بھی انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، ضیا الرحمٰن کی تعیناتی ایک مکمل انتظامی معاملہ ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمان کی تعیناتی انتظامی معاملہ ہے، جبکہ ضیاء الرحمٰن کی تعیناتی پر پاکستان تحریک انصاف کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔ حافظ حمد اللّٰہ نے کہا کہ اگر ضیاء الرحمٰن کراچی میں ڈی سی تعینات ہوئے تو کونسی عجیب بات ہے، کیا ضیاء الرحمٰن کا جرم یہ ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہے۔ علاوہ ازیں ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ضلع وسطی کے ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ پر خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مولانافضل الرحمن کے بھائی کو تعینات کرنے کو سیاسی اقرباپروری کی بدترین مثال قراردیتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سندھ کی متعصب حکومت نفرت اور استحصال کی آخری حدوں کو عبور کرچکی ہے اب تک نسل پرستی کی بنیاد پر سندھ کے شہری علاقوں کا استحصال کیا جارہا تھا لیکن اب پیپلز پارٹی اپنے سیاسی جرائم میں دوسری سیاسی جماعتوں کو شریک کررہی ہے جس سے سندھ کے شہری علاقوں میں موجود احساس محرومی احساس بے یگانگی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے مزید کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی میں انہی ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر لاکھوں غیر قانونی تقرریاں کی گئیں اور شہری علاقوں کے بیٹوں کا حق چھینا گیا ایم کیوایم پاکستان واضح کردینا چاہتی ہے کے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نہ صرف موثر آواز بنے گی بلکہ ہر فورم پر پیپلز پارٹی کی جاگیردارانہ سوچ رکھنے والی حکومت کا راستہ روکے گی۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے