وفاقی پولیس کے ریٹائرڈ کانسٹیبل نے یتیم لڑکی کو جھانسہ دیکر فحش ویڈیو بنالی

وفاقی پولیس کے ریٹائرڈ کانسٹیبل نے فیصل آباد کی یتیم لڑکی کو روزگار کا جھانسہ دیکر فحش ویڈیو بنالی اور عصمت فروشی کے مکروہ دھندے پر لگادیا۔دھندہ چھوڑنے پر ریٹائرڈ پولیس کانسٹیبل صلاح الدین اور اس کے ساتھی فرحت علی نے خاتون کے منہ پر تیزاب پھینکنے اور اسکے بھائی کو مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔یتیم لڑکی فوزیہ نے وزیراعظم عمران خان،چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد سے تحفظ دینےاور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کردی۔شہراقتدار اسلام آباد میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک یتیم لڑکی فوزیہ کی بھیانک کہانی سامنے آئی ہے۔”آن لائن“ سے گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ نے بتایا کہ چار سال پہلے میرے محلے کی ایک لڑکی مجھے اسلام آباد بیوٹی پارلر پر نوکری دینے کے بہانے لیکر آئی تھی اور اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا اور اسی دوران صلاح الدین جو کہ وفاقی پولیس کا اس وقت حاضر سروس کانسٹبیل تھا اب ریٹائر ہوچکا ہے اپنے ساتھی فرحت علی کے ہمراہ وہاں آیا اور مجھے رات کے کھانے اور چائے میں نشے کی گولیاں دیکر مجھ سے ساری رات زیادتی کی اور اسکی ویڈیو مجھے صبح دکھائی اور دھمکی دی کہ اگر تم نے ہمارے کہنے پر عصمت فروشی کا دھندہ شروع نہ کیا تو تمہارے بھائی کو بھی ماردیں گے اور تمہاری ویڈیو نیٹ پر ڈال دیں گے۔چند روز میں ہی مجھے معلوم ہوگیا کہ اقراء اور اس کی بہن صلاح الدین کے اس گندے کاروبار کا حصہ ہیں اور فیصل آباد سے مجھ جیسی ضرورت مند اور غریب لڑکیوں کو گھیر کر اسلام آباد لاتی ہیں جہاں انہیں زیادتی کا نشانہ بنا کر ویڈیو بنالی جاتی ہے اور پھر بلیک میل کرکے اس کام پر لگا دیا جاتا ہے۔فوزیہ نے بتایا کہ میرے ابو اور امی وفات پاچکے ہیں اب دنیا میں میں اور میرا ایک بھائی موجود ہیں،میں نے چار سال تک صلاح الدین اور فرحت علی کے اشاروں پر کام کیا،کورونا کی وجہ سے جب تمام کاروبار ٹھپہوگئے تو عصمت فروشی کا دھندہ بھی ختم ہوگیا۔میں فیصل آباد چلی گئی اور ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہی مگر مجھے صلاح الدین اور فرحت علی نے فون کرکے اسلام آباد بلایا کہ آکر اپنا سامان لے جاؤ جب میں سامان لینے آئی تو تھانہ گولڑہ میں میرے خلاف ہی دھندہ کرنے کا جھوٹا مقدمہ کروا دیا جب میں نے کہا کہ میرا میڈیکل کرواؤ تو صلاح الدین نے گولڑہ پولیس پر اپنا اثرورسوخ استعمال کیا اور میڈیکل نہیں ہونے دیا۔تھانے میں مجھے دو دن بھوکارکھا گیا اور پھر جیل بھیج دیا گیا۔اڈیالہ جیل میں بھی میرے ساتھ غیر انسانی سلوک کروایا گیا اور میری تلاشی کے دوران میرے تمام کپڑے اتروائے گئے۔اسی دوران صلاح الدین اور فرحت علی نے مجھے پیغام بھیجا کہ اگر واپس دھندے پر آجاؤ توتمہارے لئے آسانیاں ہوسکتی ہیں مگر میں تھک چکی ہوں اور ہر روز نئے مہمانوں کے ساتھ جانے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتی ہوں۔صلاح الدین اور فرحت علی کے پاس میرے ساتھ کی گئی زیادتی کی ویڈیوز موجود ہیں جو انہوں نے مجھے کئی بار دکھا کر بلیک میل کیا ہے۔اب کہتے ہیں کہ ہمارے نیٹ ورک سے نکلو گی تو تمہارے منہ پر تیزاب پھینک دیں گے اور تمہارے بھائی کو مار دیں گے۔صلاح الدین کے اسلام آباد پولیس کے کئی تھانیداروں سے تعلقات ہیں اور گیسٹ ہاؤسوں سے بھتہ وصولی کا کام بھی یہی کرتا ہے۔میری وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ مجھے ان خونخوار لوگوں سے نجات دلائی جائے اور میرے اور میرے بھائی کی زندگی کو تحفظ دیکر پاکستان کے عام شہری کی طرح زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔فوزیہ نے کہا کہ میں بے بس اورلاچار ہوں اور خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہوں میں امید کرتی ہوں کہ وزیراعظم پاکستان میری داد رسی کریں گے کیونکہ ملزمان کیخلاف جو درخواست میں نے اسلام آباد پولیس کو دی تھی صلاح الدین نے اس پر کارروائی رکوا دی ہے۔میں انصاف کی طلبگار ہوں۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے