احتساب عدالت کا ملک ریاض پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

احتساب عدالت نے ملک ریاض پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں بحریہ آئیکون ٹاور ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔احتساب عدالت نے ملک ریاض سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عدالت نے شریک ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کر دیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 21 اگست کو تمام ملزمان کو طلب کرلیا۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے بحریہ آئیکون ٹاور کیس کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے حتمی ریفرنس کی کاپی 6 جولائی تک پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 5 جون کو کو عدالت عظمیٰ نے ڈاکٹر ڈنشاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے ملک ریاض کے داماد شریک ملزم زین ملک کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہارکیا۔ فاضل جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے زین ملک کو گرفتار کیوں نہیں کیا زین ملک اور ڈاکٹر ڈنشاہ 50 فیصد کے پارٹنر ہیں، نیب کا رویہ تمام ملزمان کے ساتھ مساوی کیوں نہیں ہے، آئیکون ٹاور کیلئے جس وزیراعلیٰ نے زمین کی منظوری دی وہ کہاں ہی کیا ریاست کی زمین پر شاندار عمارت بنانا درست ہی ۔ نیب پراسیکوٹر نے دوران سماعت مؤقف اختیار کیا کہ آئیکون ٹاور کیلئے باغ ابن قاسم کی زمین الاٹ کی گئی۔ ملزم کے وکیل میاں عبدالروف ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ڈنشاہ ستمبر 2008ء میں وزیراعلی کے مشیر بنے، بحریہ آئیکون کیلئے زمین اپریل 2008ء میں الاٹ ہوئی۔ فاضل جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا مشیر بننے سے پہلے ڈاکٹر ڈنشاہ کی حکومت کے ساتھ دشمنی تھی ایسی بات نہ کریں جس سے آپ کا کیس کمزور ہو۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ایسی باتوں کیلئے دستاویزات دیکھنے کی ضرورت نہیں، سب کچھ نوشتہ دیوار ہے۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے