قومی اسمبلی انسداد دہشتگردی کا بل اکثریت سے منظور

قومی اسمبلی میں شدید شورشرابے اورہنگامے کے دوران کثرت رائے سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (ترمیمی) بل 2020ء اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020ءکی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی‘اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں ‘وزیرخارجہ کو مائیک دینے پرشورشرابہ جبکہ شاہ محمود قریشی اور جے یوآئی کے اسعدمحمود کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر شاہ محمودنے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا ‘اگر میں نہ بول سکا تو کوئی نہیں بول سکے گاجس پر مولانا اسعد محمود نے کہاکہ ہماری خیر ہے آپ کونہیں بولنے دیا جائیگا۔ ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہاکہ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے اس میں نظرآرہاہے کہ بہت جلد ان کی بولتی بند ہونے والی ہے‘وفاقی وزیر مواصلات مراد سعیدنے کہا ہے کہ احتساب ضرور ہوگا۔ اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا‘ ن لیگ کے پارلیمانی لیڈرخواجہ آصف کا کہناتھاکہ ہم احتساب کیلئے تیارہیں ‘ان کی بھی قبروں کا حساب لیا جائے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مرادسعید نے کہا کہ جتنا مرضی شور کرلیں کسی کو بھی این آر او نہیں ملے،کسی کو بھی معاف نہیں کریں گے۔ پاکستان کو ان کی منی لانڈرنگ اور لوٹ کھسوٹ گرے لسٹ میں آئی۔ ریمنڈ ڈیوس کو این آر او کس نے دیا؟اپوزیشن پارلیمنٹ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ رمضان شوگر مل اور انکے باقی کیسز نہیں معاف کریں گے‘ان کے مطالبات کو نہیں مانا گیا‘ہم پاکستان کے گرے سے وائٹ لسٹ میں لانے کی قانون سازی کر رہے ہیں ۔ ہم پاکستان کی بات کر رہے ہیں یہ پاکستان کو این آر او کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔بی آر ٹی، مالم جبہ کی بات کی ہمت ہوتی تو پرویز خٹک کی بات سن لیتے۔ شوگر انکوائری میں عمران خان اور شاہ محمود کا نہیں زرداری اور شریف خاندان کا نام ہے۔ہم شوگر چوروں کو این آر او نہیں دیں گے۔ مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی شور شرابا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہم نے چوری کی لیکن این آر او دے دیں‘ بارشوں کی وجہ سے کراچی میں لوگوں کی اموات ہوئیں ،کراچی پانی میں ڈوب چکا ہے۔خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہاکہ پورے خیبر پختونخوا میں کوئی بے ایمان نہیں ‘ وہ جنت کا ٹکڑا ہے ‘سارے فرشتے رہتے ہیں۔ ان کا ایجنڈا بدعنوانی کیخلاف ہے تو ان کی صفوں میں ایسے بڑے بڑے مہا کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں جس کی مثال پاکستان کی کسی حکومت کے دور میں نہیں ملتی‘آمدن اور اثاثوں میں قبروں سے حاصل ہونے والی کمائی بھی شامل ہونی چاہیے‘ اگر میرے آمدن سے زائد اثاثے ہیں تو ان کے قبروں سے زائد اثاثے ہیں۔ یہ بیٹھ کر لوگوں سے زیور حاصل کر کے جیبوں میں ڈالتے ہیں ، نوٹوں کی گڈیاں وصول کرتے ہیں اسے بھی نیب قانون میں شامل ہونا چاہیے،یہاں آکر ہمیں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ شرافت پر لیکچر دیتے ہیں، شرم آنی چاہیے،بعض لوگ سیاسی ورکر کے نام پر دھبہ ہیں ،اگر نیب قانون کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں تو کریں زیادہ دیر باقی نہیں رہی‘آئندہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ نیب قوانین کی تبدیلی کا شق وار کمیٹی اجلاس میں جائزہ لیاگیا، اس پر وزیر خارجہ نے یہاں تاثر دیا کہ ہم نیب زدہ ہیں اور نیب سے بچنا چاہتے ہیں۔ مذاکرات میں ہم نے کہا کہ ہم ریلیف نہیں چاہتے، ہمیں جو بھگتنا تھا وہ بھگت چکے ہیں اور بھگت لیں گے، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے لیکن یہ اتنے ناعاقبت اندیش اور خوف کا شکار ہیں کہ ان کے اپنے صوبے (خیبرپختونخوا) میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے استعفیٰ دے دیا۔ یہ دوبارہ حکومت میں آئے تو احتساب کمیشن پر پابندی عائد کردی،اور تمام کیسز بشمول بی آر ٹی، مالم جبہ کیس، بلین ٹری سونامی اور فارن فنڈنگ کیس میں استثنیٰ ملا ہوا ہے‘ان کے اوپر نیب لاگو نہیں ہوتا ہے نیب کی یکطرفہ کارروائیاں صرف اپوزیشن پر لاگو ہوتی ہیں۔ لوگوں نے پارٹی فنڈ کے لیے پیسے دیے انہوں نے اپنی جیب میں ڈال لیے، 6 سال ہوگئے وہ کیس زیر التوا ہے جس پر انہوں نے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے کیوں وہ کیس ان کے چہرے بے نقاب کرتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم ایف اے ٹی ایف کو قومی تنازع نہیں بنانا چاہتے، چاہتے ہیں ملک گرے لسٹ سے نکلے بلیک لسٹ میں نہ جائے۔ اپنی تقریرمیں راجا پرویز اشرف نے کہاکہ حکومت کا ایک ہی مقصد ہے کہ نیب قانون میں ترمیم ہوجائے اور ان کی جان چھوٹ جائے اور اپنی پوری تقریر میں کل وزیر خارجہ نے صرف ایک بات ثابت کرنے کی کوشش کی حکومتی بینچز پر بیٹھے افراد ایماندار اور اپوزیشن اراکین بدعنوان ہے۔ وزیر خارجہ نے گزشتہ روز احتساب آرڈیننس ہمارے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ ان کو اس کے علاوہ کوئی لینا دینا نہیں ہے اور عوام کو یہ پیغام پہنچایا کہ ایف اے ٹی ایف قومی مفاد کا معاملہ ہے لیکن اپوزیشن کی دلچسپی نیب آرڈیننس میں تھی۔آج آپ چیخ چیخ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور سارا الزام ہم پر ڈال دیتے ہیں۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے