چینی سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم بیدو تھری مکمل طور پر فعال

چین نے کہا ہے کہ اس کا بین الاقوامی سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم ’’بیدو تھری‘‘ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے اور اب یہ نظام دنیا بھر میں انتہائی درست انداز سے کسی بھی مقام کی نشاندہی کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ نظام امریکا کے جی پی ایس سسٹم کے مقابلے میں شروع کیا گیا ہے۔ BeiDou-3 کی شروعات اس وقت کی گئی جب اس نظام میں شامل سیٹلائٹس نے مدار میں اپنے تجربات مکمل کر لیے اور باضابطہ طور پر نیٹ ورک کا حصہ بن گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب چین کے پاس اپنا عالمی نیوی گیشن سسٹم موجود ہے جو بالکل امریکا کے جی پی ایس، روس کے گلوناس اور یورپی یونین کے گلیلیو سسٹم جیسا ہے۔ یاد رہے کہ چین 1990ء کی دہائی سے بیدو پر کام کر رہا ہے۔ اس نیٹ ورک میں مکمل طور پر فعال 35؍ سیٹلائٹس موجود ہیں جن میں سے آخری سیٹلائٹ 23؍ جون کو مدار میں روانہ کی گئی تھی۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنوا کے مطابق، بیدو تھری سسٹم پہلے ہی مختلف شعبہ جات میں استعمال کیا جا رہا ہے جن میں نقل و حرکت اور زراعت جیسے شعبہ جات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بیدو تھری پر دنیا کے 100؍ ممالک اور خطوں میں سروسز بھی مہیا کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر بحث کرنے کے لئے ابھی ہمارے پورٹل پر فری رجسٹر کریں۔

جواب دیں

زمرے