شاہد خاقان عباسی پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔کراچی کی احتساب عدالت میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب حکام کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان وزیر پیٹرولیم ہونے کی حیثیت سے ایم ڈی پی ایس او عمران الحق کا تقرر غیر قانونی طور پر کیا۔نیب حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر قومی خزانے کو 138 ملین سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔عدالت نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی تھی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق ،یعقوب ستار اور ارشد مرزا شامل ہے۔خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ 19 مئی2020ءکو سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ارشد مرزا کی ایم ڈی پی ایس او تعیناتی ریفرنس میں عبوری ضمانت منظور کی۔ سندھ ہائیکورٹ نے پی ایس او میں ایم ڈی کی غیر قانونی بھرتی ریفرنس کے خلاف ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ارشد مرزا کی 5,5 لاکھ کے عیوض میں ضمانت منظور کرلی ،سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیر اعظم نے نیب کو آڑے ہاتھوں لے لیا کہا نیب چاہے جھاڑو پھیر دے لیکن کوئی کیس نہیں بنتا نیب کو اوپن چیلنج ہے کیمرے کے سامنے آئے اور پھر ہم سے پوچھا جائے،سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج ملک نہیں چل رہا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی ،عدالت نے نیب کو 9 جوں تک دونوں ملزمان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔