ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس حیدر آباد میں دو ارب روپے کی کرپشن تحقیقات

سندھ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ( اے سی ای ) نے ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس حیدر آباد میں مبینہ طور پر دو ارب روپے کی کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔پنشن کی مد میں مذکورہ رقم گزشتہ چار سال کے دوران غیر مستحق افرادع میں تقسیم کی گئی ۔محکمہ فنانس سندھ میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک شخص زاہد حسین جو ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس کا ملازم بھی نہین ہے اسے غیر قانونی طور پر پنشن کی تقسیم کا ذمہ دار بنایا گیا ۔ صوبائی حکومت میں اعلیٰ حکام نے اس کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کا حکم دیا ۔تاکہ نیب اور ایف آئی اے کو معاملے سے دور رکھا جائے جبکہ اکائنٹنٹ جنرل آفس سندھ کے سینئر حکام نے ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر حیدر آباد کو پنشن سے متعلق امور دیکھنے کے لئے کہا ۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن سہیل قریشی اور ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر سے موقف معلوم کر نے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دستیاب نہیں ہو ئے واضح رہے کہ 2017 میں نیب نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر مشتاق شیخ اور اس کے ساتھیوں کو دو ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ملزم کی رہائش گاہ اور فارم ہائوس سے تین کلو سونا،ایک کروڑ ستر لاکھ روپے نقد ،9 کاریں اور 37 ہزار سعودی ریال برآمد کئے تھے۔ واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں پنشن بل کا بجٹ 100ارب اور حیدر آباد ڈسٹرکٹ کے لئے حصہ 10 ارب روپے ہے ۔ جب اس سلسلے میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بات کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے بات کر نے سے انکار کر دیا۔