وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلیفونک رابطہ

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے میں امن و استحکام کیلئے کی جانے والی کاوشوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے ،دونوں ممالک کی قیادت پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کی کاوشوں میں پاکستان اور امریکہ اتحادی ہیں۔وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نفرت انگیز پالیسیوں سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کہ 5اگست کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو ایک سال مکمل ہوا اور اسی دن اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں کشمیر سے متعلق مباحثے کے انعقاد نے ایک بار پھر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو واضح کر دیا۔وزیر خارجہ نے 5 اگست کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کشمیر سے متعلقہ مباحثے میں امریکہ کی شرکت پر، امریکی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں قوی امید ہے کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف عالمی برادری کی توجہ سے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں اور نہتے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے میں مدد ملے گی ۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے مستقل سیاسی حل کیلئے کی جانے مصالحانہ کوششوں میں اپنی معاونت جاری رکھے گا ۔وزیر خارجہ نے “افغان امن عمل” کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے بین الاافغان مذاکرات کے جلد انعقاد پر زور دیا اور کہا کہ لویا جرگہ کے انعقاد سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی ۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے دوران امریکہ کی جانب سے پاکستان کی مدد اور معاونت پر امریکی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان میں سمارٹ لاک ڈان کے باعث کرونا وبا کی شرح میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور معاشی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے۔