بلوچستان سیلاب الرٹ جاری، ایمرجنسی نافذ، سیلاب مین سائی گیس لائنز بہا لے گیا

بلوچستان کے ضلع بولان میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلے شکار پور سے کوئٹہ آنے والی 2 گیس پائپ لائنیں بہا کر لے گئے۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق ہفتہ کو ضلع بولان کے علاقے ببی نانی میں سیلابی ریلے سے سوئی گیس کی 24 اور 12 انچ قطر کی 2 پائپ لائنیں بہہ گئیں۔نجی ٹی وی جیو کی پورٹ کے مطابق پائپ لائنیں بہہ جانے کی وجہ سے مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جب کہ کوئٹہ میں بھی گیس پریشر کم ہو گیا۔ترجمان کے مطابق صورتحال بہتر ہونے پر پائپ لائنوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے باعث محکمہ صحت نے صوبے کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام ڈویژن اور ضلعی اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی اسٹاف کو اپنی اپنی جائے تعیناتیوں پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ صحت بلوچستان کے تمام پروگرامز ہیڈز ڈویژنل اور ضلعی افسران اور میڈیکل سپرینٹنڈنٹس کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں مؤثر اقدامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری صحت بلوچستان نے ڈویژنل ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، میڈیکل سپرینٹنڈنٹس اور پروگرامز ہیڈز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اپنی جائے تعیناتیوں پر حاضری کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات کی نگرانی کریں۔خیال رہے کہ طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچادی، مستونگ، خضدار، ہرنائی، نوشکی، لورا لائی، ڈھاڈر میں سیلابی ریلوں میں متعدد مویشی بہہ گئے، کچے گھروں کی دیواریں گر گئیں، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قومی شاہراہوں پر جگہ جگہ آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔