مہرے کیرئیر پر نازیبا آرٹیکلز کیوں لکھے گئئ، روینہ ٹنڈن نے وجہ بتا دی

بھارتی اداکارہ روینا ٹنڈن نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے فلموں میں رول کیلئے کبھی بھی ساتھی اداکاروں کی خواہشات پوری نہیں کیں۔1990 کی مقبول ترین بولی وڈ ہیروئنز میں شمار ہونے والی روینا ٹنڈن بھارتی فلم انڈسٹری سے متعلق مختلف بیانات دیتی رہتی ہیں اور اب انہوں نے کہا ہے کہ میں نے 90 کی دہائی کے بالی ووڈ کے اصولوں پر چلنے سے انکار کیا تھا اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں مغرور ہوں۔ایک انٹرویو میں روینا ٹنڈن نے کہا کہ ان کے کیریئر کے عروج پر ان سے متعلق نازیبا آرٹیکلز لکھے گئے کیونکہ انہوں نے ساتھی ادکاروں کی خواہشات کو پورا نہیں کیا تھا۔روینا ٹنڈن نے کہا کہ میرے گاڈ فادرز نہیں، میں کیمپس کا حصہ نہیں تھی اور ہیروز مجھے پروموٹ نہیں کرتے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ میں رولز کے لیے ہیروز کے ساتھ تعلقات نہیں بناتی تھی۔اداکارہ نے کہا کہ اکثر معاملات میں مجھے مغرور سمجھا جاتا کیونکہ میں وہ نہیں کرتی تھی جو ہیروز چاہتے تھے کہ اس وقت ہنسوں جب وہ چاہیں، بیٹھوں جب وہ مجھے بیٹھنے کیلئے کہیں۔اداکارہ نے شکوہ کیا کہ وہ خاتون صحافیوں سے مایوس ہوئیں جو ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئیں جو بنیادی طور پر مشہور مرد اداکاروں کی کٹھ پتلی تھیں۔روینا ٹنڈن نے کہا کہ ان سے متعلق اکثر غیر مہذب آرٹیکلز لکھے جاتے تھے کیونکہ کسی کی انا کو چوٹ پہنچی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت سازشی ٹولے ہوتے تھے جن میں ہیروز ان کی گرل فرینڈز اور ان کے صحافی چمچے شامل ہوتے تھے۔اداکارہ نے کہا کہ مجھے حیران کرنے والی بات یہ تھی کہ اکثر خواتین صحافی دوسری خاتون کے ساتھ بھی ایسا کرتی تھیں، اب جب وہ کھڑی ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم فیمنسٹ اور الٹرا فیمنسٹ کالمز لکھ رہی ہیں لیکن میں نے کبھی ان پر تنقید نہیں کی۔