متحدہ عرب امارات میں ایک یمنی یہودی خاندان 15 سال کی علیحدگی سہنے کے بعد اکٹھا ہوگیا

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرکاری خبر ایجنسی ڈبلیو اے ایم کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایک یمنی یہودی خاندان 15 سال کی علیحدگی سہنے کے بعد اکٹھا ہوگیا ہے۔ یہ خاندان یو اے ای حکام کی جانب سے اس کے ارکان کو یمن سے امارات کے سفر کی سہولت دینے کے بعد اکٹھا ہوسکا ہے۔ اماراتی حکام نے اس خاندان کے دیگر ارکان، جو لندن میں رہتے ہیں، کو ان کے ساتھ شامل ہونے کیلئے انتظامات کئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق 15 سال بعد پھر سے ملنے پر اس خاندان نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یہودی خاندان نے ان کو دوبارہ ملانے کے انتظامات کرنے پر یو اے ای کا شکریہ ادا کیا ہے۔ خاندان نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ یو اے ای دنیا کیلئے ایک نمونہ ہے جس کی تقلید کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ متحدہ عرب امارات کے انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ اس کے رواداری اور بقائے باہمی کی عمدہ اقدار کی ایک مثال ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق تقریباً 50 یہودی یمن میں باقی بچے ہیں جن میں سے 40 صنعا میں ایک کمپاؤنڈ میں رہ رہے ہیں جو امریکی سفارتخانے کے قریب واقع ہے۔